وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں اینٹی رائٹس یونٹ کے قیام کا اعلان کیا ہے، جو احتجاجی مظاہروں اور فسادات کے دوران امن و امان کے تحفظ کے لیے بنایا جائے گا۔
یہ اعلان ایک اہم سیکیورٹی اجلاس کے دوران کیا گیا، جس میں عسکری اور سول قیادت نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیراعظم کو ملک کی داخلی سیکیورٹی کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اور اسلام آباد میں حالیہ احتجاجی کارروائیوں اور شرپسند عناصر کے اسلحہ کے استعمال سے متعلق معلومات فراہم کی گئیں۔
اہم فیصلے:
اینٹی رائٹس یونٹ کا قیام: وزیراعظم نے اسلام آباد میں اینٹی رائٹس یونٹ کے قیام کی منظوری دے دی۔ یہ یونٹ مظاہروں اور فسادات کے دوران قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے کام کرے گا۔پراسیکیوٹر جنرل آفس کی مضبوطی: وزیراعظم نے پراسیکیوٹر جنرل آفس کو مزید مستحکم کرنے کی ہدایت کی، تاکہ قانونی کارروائیوں میں مزید تیزی لائی جا سکے اور احتجاجی عناصر کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔
کے پی عوام کا شکریہ:
وزیراعظم نے خیبر پختونخوا کے عوام کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے اس "مٹھی بھر ٹولے" کو مسترد کیا اور امن کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام سے ترقیاتی کاموں اور ان کی کارکردگی کے بارے میں سوالات کیے جائیں گے تاکہ صوبے کی مزید بہتری کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔
سیکیورٹی اداروں کی تعریف:
اجلاس میں ملکی سیکیورٹی اداروں کی قربانیوں اور کارکردگی کو سراہا گیا اور ان کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ وزیراعظم نے سیکیورٹی فورسز کی انتھک محنت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں ملک کی حفاظت میں انتہائی اہم ہیں۔
نتیجہ:
یہ اجلاس پاکستان کی داخلی سیکیورٹی کی بڑھتی ہوئی پیچیدگیوں کے پس منظر میں منعقد ہوا، جس میں عوامی تحفظ اور فسادات کے دوران امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات پر زور دیا گیا۔