مجھے یقین نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی قاتلانہ حملوں سے محفوظ ہیں؛ پوٹن

مجھے یقین نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی قاتلانہ حملوں سے محفوظ ہیں؛ پوٹن

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک تجربہ کار اور ذہین سیاست دان قرار دیتے ہوئے ان کے لیے قاتلانہ حملوں کے خطرات کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔

 پوتن نے کہا کہ ٹرمپ کے لیے امریکی سیاسی تاریخ میں ایسے اندوہناک واقعات کا سامنا رہا ہے، اور وہ سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ اب بھی قاتلانہ حملوں سے محفوظ نہیں ہیں۔

پوتن کی تشویش:
پوتن نے کہا کہ بدقسمتی سے امریکا کی سیاسی تاریخ میں متعدد افسوسناک واقعات پیش آئے ہیں، اور ان کا خیال ہے کہ ٹرمپ کو محتاط رہنا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ ذہین اور تجربہ کار ہیں، لیکن وہ امریکی انتخابی مہم کے دوران قاتلانہ حملوں سے محفوظ نہیں رہ سکے۔
ٹرمپ پر ہونے والے قاتلانہ حملے:
پوتن کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب جولائی میں ڈونلڈ ٹرمپ پر ریاست پنسلوانیا میں قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا، جس میں گولی ان کے کان کے قریب سے گزر گئی تھی۔ستمبر میں ایک اور واقعہ پیش آیا، جب ٹرمپ کے فلوریڈا کے گولف کورس کے قریب ایک مسلح حملہ آور کو حراست میں لیا گیا۔
امریکی صدور کے قتل کی تاریخ:
روسی صدر نے اپنے بیان میں امریکی تاریخ کے اندوہناک واقعات کا ذکر کیا، جس میں اب تک 4 امریکی صدور کا قتل شامل ہے۔ان واقعات میں ابراہم لنکن، جیمز گارفیلڈ، ولیم میک کینلے، اور جان ایف کینیڈی کا قتل شامل ہے۔پوتن کے اس بیان کا مقصد امریکی سیاست میں پیش آنے والے خطرات اور ٹرمپ کی سکیورٹی کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کرنا تھا، خاص طور پر اس پس منظر میں جب ٹرمپ پر ماضی میں قاتلانہ حملے کیے گئے تھے۔ پوتن کی جانب سے اس تشویش کا اظہار امریکہ اور روس کے درمیان کشیدہ سیاسی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے، جہاں ٹرمپ کی سکیورٹی اور زندگی کے حوالے سے ان کی رائے اہمیت رکھتی ہے۔