10 برس قبل فون چوری کا جھوٹا دعویٰ؛ برطانوی وزیر کو مستعفی ہونا پڑا

10 برس قبل فون چوری کا جھوٹا دعویٰ؛ برطانوی وزیر کو مستعفی ہونا پڑا

برطانیہ میں موبائل فون چوری کا ایک دہائی پرانا معاملہ دوبارہ سامنے آنے پر وزیر ٹرانسپورٹ لوئس ہیگ کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔

پس منظر:
2013 میں لوئس ہیگ نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کا دفتری موبائل فون چوری ہوگیا ہے۔ بعد ازاں، جب یہ موبائل فون انہیں واپس مل گیا، تو انہوں نے پولیس کو اطلاع دیے بغیر اسے استعمال کرنا شروع کردیا۔

معاملے کا انکشاف اور قانونی کارروائی:
پولیس کو جب یہ علم ہوا تو انہوں نے لوئس ہیگ کو طلب کیا۔ دورانِ تفتیش انہوں نے تسلیم کیا کہ انہوں نے غلط بیانی کی اور دھوکہ دہی کا جرم کیا۔ 2014 میں اس معاملے پر ان کے خلاف درج مقدمہ خارج کر دیا گیا، کیونکہ انہوں نے عدالت کو یقین دلایا تھا کہ یہ ایک غیر ارادی غلطی تھی جس سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

سیاسی کیریئر:
2015 میں لوئس ہیگ نے شمالی انگلینڈ کے ضلع شیفیلڈ سے بطور رکن پارلیمنٹ کامیابی حاصل کی۔ رواں برس جولائی میں وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کی حکومت میں انہیں وزیر ٹرانسپورٹ مقرر کیا گیا۔

تنازع کی واپسی:
ان کے وزیر بننے کے بعد یہ معاملہ دوبارہ خبروں کی زینت بن گیا۔ ایک حالیہ اخبار میں اس پر تفصیلی رپورٹ شائع ہونے کے بعد، لوئس ہیگ نے وزیرِاعظم کو خط لکھ کر اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔

لوئس ہیگ کا مؤقف:
استعفے سے قبل، لوئس ہیگ نے ایک بیان میں وضاحت کی کہ وکیل کے مشورے پر انہوں نے جرم تسلیم کیا، حالانکہ وہ سمجھتی ہیں کہ یہ ایک غیر ارادی غلطی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ مجسٹریٹ نے ان کے دلائل تسلیم کرتے ہوئے انہیں سب سے کم سزا دی اور مقدمہ ختم کردیا۔انہوں نے اپنے خط میں لکھا کہ وہ اپنی سیاسی وابستگی اور کام جاری رکھیں گی لیکن حکومت سے باہر رہ کر۔

اثرات:
یہ معاملہ برطانوی سیاست میں شفافیت اور اخلاقی ذمہ داری پر دوبارہ بحث کا باعث بنا ہے، خاص طور پر اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کے کردار کے حوالے سے۔