لندن میں میٹ پولیس کے حالیہ ٹارگیٹڈ آپریشنز کے نتیجے میں موبائل فون چوری کی وارداتوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
2024 کے مقابلے میں گزشتہ سال فون چوری کی تعداد 10 ہزار کم ہو کر 71,391 رہ گئی ہے، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 81,365 تھی۔ اس کے باوجود، باوجود 12 فیصد کمی کے، ہر 7 سے 8 منٹ میں ایک فون چوری ہورہا ہے، جس پر میٹ پولیس کے اسسٹنٹ کمشنر میٹ ٹوئسٹ نے اعتراف کیا ہے کہ یہ تعداد اب بھی بہت زیادہ ہے۔میٹ ٹوئسٹ کے مطابق، موبائل فون چوروں کو پکڑنے کے لیے پولیس افسران ای بائکس کا استعمال کر رہے ہیں اور پہلی بار ڈرونز بھی استعمال کیے گئے ہیں، تاکہ جرائم کے خلاف موثر کارروائی کی جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 14 برس سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے منظم جرائم پیشہ گروہوں میں شامل کیا جاتا ہے، جنہیں فون چوری کے عوض 100 پاؤنڈز ادا کیے جاتے ہیں۔حالیہ ایک ماہ کے دوران، پولیس نے 248 افراد کو فون چوری سے متعلق جرائم میں گرفتار کیا ہے اور 770 مسروقہ فون برآمد کیے ہیں، جب کہ مزید 122 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
سر مارک رولی، جو میٹ پولیس کے کمشنر ہیں، نے کہا ہے کہ عدالتیں بار بار جرائم کرنے والوں کو ضمانت نہ دیں تاکہ وہ باہر آ کر مزید جرائم انجام نہ دیں۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ فون بنانے والی کمپنیوں اور ٹیلی کام اداروں کو ایسے نظام وضع کرنے چاہئیں تاکہ مسروقہ فون کو دوبارہ قابل استعمال یا فروخت کرنا مشکل بنایا جا سکے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ 10 ہزار کم فون چوری ہونے کا مطلب ہے کہ 10 ہزار افراد ذہنی اذیت سے بچ گئے ہیں۔ دوسری جانب، لندن کے میئر سر صادق خان نے ویسٹ اینڈ میں چوریوں اور ڈکیتیوں سے نمٹنے کے لیے 4.5 ملین پاؤنڈ کی فنڈنگ سے ایک کمانڈ سینٹر قائم کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ جرائم کے خلاف موثر کارروائی کی جا سکے۔