امریکہ کا ایران کو 30 ارب ڈالر دینے کا دعویٰ جھوٹا قرار، صدر ٹرمپ نے سختی سے تردید کر دی

امریکہ کا ایران کو 30 ارب ڈالر دینے کا دعویٰ جھوٹا قرار، صدر ٹرمپ نے سختی سے تردید کر دی

ویب ڈیسک: حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ زور پکڑ رہا تھا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی ممکنہ نئی انتظامیہ کے ذریعے ایران کو 30 ارب ڈالرز کی مالی امداد دینے پر غور کر رہے ہیں تاکہ ایران سویلین جوہری پروگرام بنا سکے، تاہم حقیقت میں اس دعوے کی کوئی بنیاد نہیں۔

امریکی میڈیا اداروں سی این این اور این بی سی نیوز کی ابتدائی رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ بعض امریکی حکام ایران کے ساتھ سفارتی سطح پر ایسے کسی فریم ورک پر غور کر رہے ہیں جس میں یورینیم افزودگی روکنے کے بدلے معاشی مراعات دی جا سکتی ہیں، لیکن ان تجاویز کو ابتدائی سوچ کے طور پر پیش کیا گیا تھا اور کسی حتمی فیصلے کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ان رپورٹس پر ردِعمل دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’سوشل ٹرتھ‘ پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا:’’جعلی میڈیا کے کچھ لوگ دعویٰ کر رہے ہیں کہ میں ایران کو سویلین جوہری تنصیب کے لیے 30 ارب ڈالر دینا چاہتا ہوں۔ میں نے ایسا کوئی مضحکہ خیز خیال کبھی نہیں سنا، یہ ایک بڑا جھوٹ ہے۔‘‘واضح رہے کہ اپریل 2025 سے امریکا اور ایران کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام پر بالواسطہ سفارتی بات چیت جاری ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ اس کا پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، جبکہ امریکہ کی کوشش ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکا جائے۔

خلاصہ:
ایران کو 30 ارب ڈالر دینے کا دعویٰ افواہ ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس خیال کو جھوٹ اور مضحکہ خیز قرار دیا۔
ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی بات چیت جاری ہے لیکن کوئی معاہدہ یا مالی امداد کی منظور شدہ تجویز موجود نہیں۔