تھائی وزیراعظم پیتونگاترن شیناوترا سے مستعفی ہونے کا مطالبہ زور پکڑ گیا، فون کال لیک پر سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا

تھائی وزیراعظم پیتونگاترن شیناوترا سے مستعفی ہونے کا مطالبہ زور پکڑ گیا، فون کال لیک پر سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا

تھائی لینڈ میں ایک لیک آڈیو کال کے بعد سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا ہے، اور وزیراعظم پیتونگاترن شیناوترا سے مستعفی ہونے کے مطالبات زور پکڑنے لگے ہیں۔

 غیرملکی میڈیا کے مطابق کمبوڈیا کے سابق وزیراعظم سے ہونے والی ایک فون کال کے بعد یہ ہنگامہ کھڑا ہوا، جس میں کئی حساس معاملات پر گفتگو کی گئی۔

 لیک کال کا پس منظر:
لیک آڈیو کال میں تھائی وزیراعظم نے کمبوڈیا کے سابق وزیراعظم کو "چاچا" کہہ کر مخاطب کیا۔گفتگو میں ایک تھائی فوجی کمانڈر کی برطرفی پر بھی بات کی گئی، جس سے فوج کو کمزور کرنے کے الزامات سامنے آئے۔
 سیاسی ردعمل:
اتحادی جماعتوں نے حکومت سے علیحدگی اختیار کرنا شروع کر دی ہے۔اپوزیشن اور عوامی حلقوں میں وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ بڑھتا جا رہا ہے۔
 وزیراعظم کا مؤقف:
وزیراعظم پیتونگاترن شیناوترا نے لیک آڈیو پر معذرت کرتے ہوئے کہا:"میری گفتگو سے عوام میں جو ناراضگی پیدا ہوئی، میں اس پر شرمندہ ہوں۔"
 سیاسی پس منظر:
38 سالہ پیتونگاترن شیناوترا نے اگست 2024 میں وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ سنبھالا تھا۔وہ سابق وزیراعظم تھاکسن شیناوترا کی بیٹی ہیں اور ان کا تعلق ملک کے بااثر سیاسی خاندان سے ہے۔
 تجزیہ:
مبصرین کے مطابق یہ بحران تھائی لینڈ کی سویلین حکومت اور فوج کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔استعفیٰ نہ دینے کی صورت میں پارلیمانی تحریک عدم اعتماد کا امکان بھی موجود ہے۔