امریکا نے پاک بھارت جنگ بندی میں امریکی کردار کو مسترد کرنے کے بھارتی حکومت کے دعوے کو جھوٹا اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکی قیادت نے اس عمل میں نہ صرف کردار ادا کیا بلکہ براہِ راست شرکت بھی کی۔
"بعض تبصرے خود اپنی وضاحت کر دیتے ہیں" — امریکی ترجمان
امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے ایک بریفنگ کے دوران بھارتی حکومت کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ:"اکثر تبصرے خود اپنی وضاحت کر دیتے ہیں، اور موجودہ جدید دور میں کسی ایک بیان پر انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقت تلاش کرنے کے لیے ہمیں وسیع تر شواہد کو دیکھنا چاہیے۔"انہوں نے واضح کیا کہ بعض آراء غلط ہو سکتی ہیں اور کہا:"صدر ٹرمپ نے سفارتی عمل کو آسان بنایا، اور پاک بھارت جنگ بندی میں ان کا کردار تسلیم شدہ ہے۔"
نائب صدر جے ڈی وینس کی شرکت کی بھی تصدیق
ترجمان نے مزید انکشاف کیا کہ اس عمل میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی شریک رہے اور ان کے کردار کو تسلیم کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ:"یہ مذاکرات کسی ایک فریق یا ملک کے بغیر ممکن نہیں تھے۔ ہمارا سفارتی تعاون واضح اور اہم رہا ہے۔"
بھارت کا مسلسل انکار
یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب بھارتی حکومت نے مسلسل دعویٰ کیا ہے کہ پاک بھارت جنگ بندی میں امریکا کا کوئی کردار نہیں تھا، بلکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست رابطے کا نتیجہ تھا۔ تاہم امریکی قیادت، خصوصاً سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ، متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کروانے میں فعال سفارتی کردار ادا کیا۔
صدر ٹرمپ کی امن کوششیں اور نوبیل انعام کی نامزدگی
پاکستانی حکومت کی جانب سے بھی اس بات کا اعتراف کیا جا چکا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا۔ حتیٰ کہ امریکی صدر کو اس امن کردار کے اعتراف میں نوبیل انعام کے لیے بھی نامزد کیا گیا تھا۔
تجزیہ
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، پاک بھارت تعلقات کی پیچیدہ نوعیت کے پیش نظر عالمی طاقتوں کی ثالثی ہمیشہ اہم رہی ہے۔ امریکا کی جانب سے یہ کھلے عام اعتراف ایک بار پھر ظاہر کرتا ہے کہ مودی حکومت کی طرف سے امریکی کردار کو مسترد کرنا نہ صرف حقیقت سے انکار ہے بلکہ عالمی سفارت کاری کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔