ریلوے حکام سے التجا

تحریر :چودھری فرحان شوکت ہنجرا

پاکستان ریلوے کا ماٹو ہے رفتار خدمت حفاظت لیکن عمل کی دنیا میں آئیں تو ریلوے ترقی کی بجائے تیز رفتاری سے تنزلی کی جانب گامزن ہے اگر خدمت کے میدان میں آئیں تو صورتحال سب کے سامنے عیاں ہے کہ مسافر ٹرینوں کی تعداد روز بروز کم ہو رہی ہے ہاں میو گارڈن میں افسران بالا کی رہائشی سہولتوں کی شان و شوکت میں پہلے سے زیادہ اضافہ دیکھنے کو ملا ہے اور حفاظت کی جانب دیکھیں تو آئے روز مسافر و گڈز ٹرینیں ٹریک سے اترکر ڈی ٹریک ہو رہی ہیں اور جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے پاکستان ریلوے کا نارووال سیالکوٹ سیکشن جس کے اپ اور ڈاؤن سائیڈ پر 10,10ٹرینیں چلتی تھیں 2008سے اب ان ٹرینوں کی تعداد کم یعنی سکڑ کر چار رہ گئی ہے 
نارووال سیالکوٹ ریلوے سیکشن کی بدقسمتی دیکھئے سب سے زیادہ ریلوے افسران و دیگر سٹاف کا تعلق نارووال سیالکوٹ شیخوپورہ کے اضلاع سے ہے 2024کے انتخابات کے بعد موجودہ مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف کا لاہور ،ایم این اے احمد عتیق انور صاحب ضلع شیخوپورہ علاقہ نارنگ ،وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیاتی بورڈ احسن اقبال صاحب ضلع نارووال نوشین افتخار صاحبہ پسرور ضلع سیالکوٹ اور وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف صاحب کا سیالکوٹ شہر سے تعلق ہے2013 کے انتخابات میں صرف ضلع شیخوپورہ نارنگ سے مسلم لیگ ن کے اہم این اے رانا افضال حسین مرحوم  تھے جبکہ لاہور سے مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق صاحب تھے احسن اقبال صاحب زاہد حامد صاحب پسروراور خواجہ آصف صاحب ایم این اے تھے 2018 میں صرف ضلع شیخوپورہ نارنگ حلقہ سے پی ٹی آئی کے تعلق رکھنے والے ممبر قومی اسمبلی بریگیڈیئر ر راحت امان اللہ بھٹی صاحب تھے باقی حلقوں سے احسن اقبال صاحب نوشین افتخار صاحبہ اور خواجہ محمد آصف صاحب ایم این اے تھے 2008 کے انتخابات میں بھی  خواجہ آصف صاحب سیالکوٹ افتخار الحسن ظاہرے شاہ مرحوم پسرور احسن اقبال صاحب  نارووال رانا افضال حسین مرحوم ضلع شیخوپورہ سے مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی تھے اور پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحادی حکومت میں خواجہ سعد رفیق صاحب اور احسن اقبال صاحب وفاقی وزیر بھی تھے لیکن نارووال سیالکوٹ شیخوپورہ نارنگ کے عوام کی بدقسمتی دیکھیے کہ ان اضلاع سے مسلم لیگ ن کے مقامی رہنماؤں وکارکنان نے پتہ ماری کرکے اپنے رہنماؤں کو قومی اسمبلی کے ایوانوں میں پہنچا کر اقتدار کے منصب سے فیض یاب کروایا جبکہ ان کی بے فیضی دیکھیے کہ حلقے کے عوام کیلئے آج تک یہ وفاقی وزراء￿  اراکین اسمبلیز بند کی گئیں ٹرینیں بحال نہیں کروا سکے اور نارنگ بدوملہی نارووال پسرور چونڈہ سیالکوٹ کے عوام خوار ہو رہے ہیں  کس کو بدبخت کا نام دیں یہ اقتدار میں آکر بھی عوام کو عزت وتکریم والے ریلوے کے زریعے ٹرینوں کو بحال نہ کرنے والے اراکین اسمبلیز وفاقی وزرا کا عوام محاسبہ کریں 
دوسری جانب ریلوے انتظامیہ کی جانب سے نارووال سیکشن پر211اپ212ڈاون نارووال پسنجر کا لاہور سے نارووال روانگی کا وقت صبح 7:40 بجے سے تبدیل کرکے 8:30 بجے کردیا گیا ہے حالانکہ 7:40 بجے صبح اس ٹرین کی روانگی کا بہترین ٹائم ٹیبل تھا ٹرین بروقت روانہ ہوکر بروقت نارووال پہنچتی تھی 

نارووال پسنجر کا وقت تبدیل کرنے سے اس ٹرین کا نظام ہی دھرم بھرم ہو کر رہ گیا ہے اب یہ ٹرین اکثر اوقات صبح 9 بجے کے بعد نارووال کیلئے روانہ ہوتی ہے اور مسافروں کی بہت بڑی تعداد اس ٹرین کے وقت تبدیل ہونے سے ریلوے انتظامیہ سے نالاں ہے 
چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان ریلویز محمد عامر بلوچ صاحب سے عوامی اور ریلوے مفاد عامہ میں مطالبہ ہے کہ نارووال پسنجر کو پرانے وقت سے 10 منٹ پہلے یعنی صبح 7:30پر روانہ کرنے کے احکامات صادر فرمائیں اس سے اس ٹرین کا علامہ اقبال ایکسپریس سے کراس نارنگ ہو جانے سے یہ ٹرین بروقت نارووال پہنچ پائے گی
اس کے علاوہ انتہائی اہمیت کا حامل مسئلہ کی نشاندہی کرنا چاہتا ہوں  کہ نجی کمپنی کے زریعے فیض احمد فیض ٹرین لاہور سے نارووال کیلئے رات 7:15بجے معمول کے مطابق روانہ ہوتی تھی لیکن اب یہ ٹرین رات 9 بجے کے بعد  لاہور سے نارووال کیلئے اسلیئیروانہ ہو رہی ہے کہ نارووال پسنجر 212ڈاون جو رات کو 7:50پر لاہور پہنچتی ہے اسی ٹرین کا ریگ لگا کر فیض احمد فیض ٹرین کو ریلوے انتظامیہ روانہ کر رہی ہے حالانکہ فیض احمد فیض ٹرین کا تو اپنا ریگ تھا اس بابت انکوائری کروائیں کہ فیض احمد فیض ٹرین کا ریگ کہاں گیا ہے جناب عامر بلوچ صاحب ریلوے انتظامیہ کے اس غیر اخلاقی  عمل سے ہزاروں مسافر جن میں خواتین بچے عمر رسیدہ ہیں ان کا سخت استحصال ہو رہا ہے اور فیض احمد فیض ٹرین رات 12 بجے نارووال پہنچتی ہے آپ سے التماس ہے کہ اس کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فیض احمد فیض ٹرین کو اس کا ریگ لگا کر شیڈول ٹائم ٹیبل کے مطابق روانہ کرنے کے احکامات صادر فرمائیں۔
پاکستان ریلوے پریم یونین کے مرکزی صدرشیخ محمد انورکی برطانیہ کی نیشنل یونین آف ریل، میری ٹائم اینڈ ٹرانسپورٹ ورکرز (RMT) کے صدر الیکس گورڈن سے لندن میں اہم ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات دونوں ممالک کی ریلوے مزدور تنظیموں کے درمیان اتحاد اور تعاون کے فروغ کے لیے ایک اہم سفارتی اقدام کاآغاز ہے۔اس موقع پردونوں راہنماؤں نے فلسطین سے اظہاریکجہتی کا اظہارکیا۔دونوں راہنماؤں کے درمیان پاکستان ریلوے کی بحالی کے عمل پر تفصیلی بات چیت کی گئی، خاص طور پر 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد اس کے دوبارہ پٹری پر لانے کے لیے کی جانے والی کوششوں پر روشنی ڈالی گئی۔ الیکس گورڈن نے سی پیک کے ممکنہ کردار، بالخصوص ML-1 ریلوے اپ گریڈ اور ریکوڈک کی اسٹریٹجک اہمیت کے بارے میں گہری دلچسپی ظاہر کی اور ان منصوبوں کو پاکستان ریلوے کے لیے گیم چینجر قرار دیا۔اس ملاقات میں پاکستان ریلوے میں ٹریڈ یونین پر عائد پابندیوں کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی۔ شیخ محمد انور نے انہیں اس ضمن میں جاری کوششوں کے بارے میں آگاہ کیا جبکہ الیکس گورڈن نے اس مسئلے کو عالمی فورمز، بشمول جنیوا کنونشنز، میں اٹھانے کا عزم کیا۔ملاقات میں دونوں ممالک کے ریلوے مزدوروں کی قربانیوں اور خدمات کا بھی ذکر کیا گیا اور ایک مضبوط پیغام امن اور مشترکہ ترقی کے لیے دیا گیا۔ الیکس گورڈن نے پاکستان ریلوے کے مزدوروں کی محنت و جانفشانی کو سراہتے ہوئے ان کیلئے خیرسگالی کا پیغام دیا۔ شیخ محمد انور نے انہیں پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ وہ خود دیکھ سکیں کہ کس طرح ہمارے مزدور اپنی ریلوے کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے دعوت قبول کرتے ہوئے جلد پاکستان کادورہ کرنے کااعلان کرتے ہوئے کہاکہ یہ ملاقات دونوں ممالک 
کے ریلوے شعبے کے درمیان باہمی تعاون اور ترقی کے عزم کو مزید مستحکم کرنے کا باعث ٹابت ہوگی۔