ریلوے کی ترقی کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت

تحریر: فرخ ریاض بٹ 

پاکستان ریلوے کی آمدنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ 
 چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) پاکستان ریلوے عامر علی بلوچ کے مطابق ریلوے نے 5 ماہ میں مسافر ٹرینوں اور مال گاڑیوں سے 33 ارب روپے کما لیے ہیں،جو گزشتہ برس کے اسی عرصے کے مقابلے میں 14ارب روپے زیادہ ہیں۔ پاکستان ریلوے کا ڈھانچہ اس قدر استعدادکا حامل ہے کہ آج 33ارب روپے کے منافع کو بہت غنیمت سمجھا جارہا ہے حالانکہ فی الحقیقت یہ کئی گنا زیادہ ہونا چاہئے تھا۔ متذکرہ صورتحال کو حوصلہ افزا جانتے ہوئے محکمہ ریلوے کو سیاسی مصلحتوں سے پاک کر کے پھر سے اپنے پیروں پر کھڑا کیا جاسکتا ہے۔
وطن عزیز میں ریلوے کا جال طول وعرض میں پھیلا ہوا ہے،جو اسے قیام پاکستان کے وقت ملا تھا۔ریلوے لائنوں کی مجموعی لمبائی 7791کلومیٹر،فعال اسٹیشنوں کی تعداد 625اور ٹرینوں کی زیادہ سے زیادہ رفتار 120کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر ہے تاہم آج کے ترقی یافتہ دور میں اسے ترقی دینے کی بہت گنجائش موجود ہے۔دنیا بھربشمول پاکستان میں ریلوے کو سفر کاسستا اور محفوظ ترین ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔پاکستان میں1970کی دہائی تک اس محکمے کی آمدن میں مسافر ٹرینوں کے ساتھ ساتھ مال گا ڑیوں کا بڑا حصہ شامل تھا، تاہم رفتہ رفتہ یہ سیاسی کھینچا تانی کی نذرہوتا چلا گیا، جس کی وجہ سے کم و بیش 45سال کے عرصے میں سب سے زیادہ خسارے میں جانے والے محکمے ریلوے اور پی آئی اے رہے۔اس دوران مال گا ڑیاں جو پہلے پہل ہر سیکشن پر خطیر منافع دے رہی تھیں ، ان کا آپریشن کم ہوکر ایک اندازے کے مطابق آج 10فیصد سے بھی کم رہ گیاہے۔ بہت سی برانچ لائنیں تین چار دہائیوں سے مکمل طور پر بند ہیںاور ریلوے کی زمینوں پر لوگوں کا قبضہ ہے ماضی میں سیاسی بنیادوں پر ضرورت سے زیادہ سٹاف بھرتی کیا گیا۔اگر ریلوے کے محکمے کو سیاسی بھرتیوں سے پاک کر کے میرٹ پر مبنی نظام لاگو کر دیا جائے تو پاکستان ریلوے ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔پاکستان میں ریلوے کا سفر دیگر ذرائع کے نسبت سستا اور محفوظ ہے۔ موجودہ دور میں جہاں دیگر شعبوں میں بہتری لانے کیلئے اقدامات کئے گئے وہاں پاکستان ریلوے کو بھی تبدیل کرنے کی کوشش کی جاری رہی ہے۔ ریلوے کے محکمے کو خودانحصاری کی طرف لانا اہم چیلنج ہے اسی طرح اسے صارفین کی ضروریات کے مطابق ڈھال کر ہی اسے کامیاب بنایا جا سکتا ہے۔ ماضی میں پاکستان ریلوے کو بہت سے چیلنج درپیش تھے جن پر کبھی توجہ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے مالی خسارہ بڑھتا چلا گیا۔ پھر محکمے میں اوسط درجے کا انتظام و انصرام تھا اور نظام میں تکنیکی اورپیشہ ورانہ کمزوریاں موجود تھیں۔اسی لئے ماضی میں عوام ریلوے کی طرف راغب ہونے میں اعتماد نہیں کرتے تھے۔ موجودہ قیادت کا ویژن ریلوے میں ہر قسم کی نقل و حمل کو جدید اور بہتر بنانا شامل ہے۔پاکستان اور چین کے مابین ایم ایل ون معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں،ایم ایل ون ایک اسٹریٹیجک منصوبہ ہے اس معاہدے سے پاکستان کا پورا ٹرانسپور ٹیشن نظام تبدیل ہو جائے گا۔ منصوبے کی لاگت 9 ارب ڈالر سے کم ہوکر 6.7 ارب ڈالر رہ گئی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کو وسطی ایشیاء سے ملانے والے کوہاٹ۔ خرلاچی لنک منصوبہ پر بھی دستخط ہو چکے ہیں منصوبہ سے مقامی آبادی کو روزگار حاصل ہوگا۔پاکستان وسطی ایشیاء اور روس تک لنک ہو جائے گا۔ ریلوے آٹو میٹک بلنگ اینڈ ٹریول اسسٹنس جسے ہم سادہ الفاظ میں رابطہ کہہ سکتے ہیں، کی لانچنگ کی تقریب لاہور ریلوے اسٹیشن سے کردی گئی ہے۔ رابطہ ایپلی کیشن مسافروں اور ریلوے کسٹمرز کیلئے مختلف آسانیاں پیدا ہوں گی۔مسافر اپنے سفر کو پہلے سے پلان کر سکیں گے۔ایپلیکیشن سے گھر بیٹھے ٹکٹ ٹیکسی، ہوٹل بکنگ اور کھانے کا آرڈر بھی دیا جا سکے گااس کے علاوہ پارسل کی بکنگ اور ٹریکنگ بھی ہو سکے گی علاوہ ازیں مسافروں کو ٹرین آپریشن مینجمنٹ سسٹم تک رسائی بھی میسر ہو گی۔ریلوے کے انتظامی و مالی امور کوڈیجیٹائز جبکہ ریلوے میں ای ٹینڈرنگ کا آغاز کیاجاچکا ہے۔ ریلوے نیٹ ورک پر موجود ریلوے اسٹیشنوں اور تنصیبات کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کیلئے منصوبے پر تیزی سے پیش رفت جاری ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ آج بھی مسافروں کی اکثریت ریلوے کے ذریعے سفر کو ترجیح دیتی ہے۔ ان کی اس ترجیح کا بنیادی سبب یہ ہے کہ شہری ریل کے سفر کو محفوظ سفرجانتے ہیں۔ 
 اس وقت کیماڑی سے لے کر زاہدان اور لنڈی کوتل تک ریلوے کی قیمتی کھربوں روپے کی اراضی پر قبضہ ہے۔ اگر اسی زمین کو استعمال میں لایا جائے، تو ریلوے پاکستان کا سب سے خوشحال   ادارہ بن جائے۔ اگر تمام ریلوے آفیسرز اور ملازمین پوری ایمانداری اورجوش و جذبے کے ساتھ اپنے کام میں مگن رہیں  تو یقینی طور پر پاکستان ریلوے ایک بار پھر ایک کامیاب اور ماڈل ادارہ بن جائے گا۔