چودھری فرحان شوکت ہنجرا
ملک میں زرائع آمدورفت کے زریعے پاکستان ریلوے کے زریعے ٹرینوں اور مواصلات یعنی سڑکوں کے زریعے روزانہ کروڑوں مسافر سفر کرتے ہیں اور گڈز ٹرانسپورٹ کی ترسیلات بھی ان دونوں محکمہ جات کے زریعے سے ہوتی ہے
پاکستان ریلوے کا انفراسٹرکچر ویسے تو پورے ملک میں موجود ہے ریلوے کو چاروں صوبوں کی زنجیر بھی کہتے ہیں اور ریلوے کے زریعے عوام الناس کو سفر اور گڈز اشیاء کی ترسیل روڈ ٹرانسپورٹ سے محفوظ اور سستی ترین بھی ہے اور کم وقت میں باآسانی ڈیلیوری بھی ہوتی ہے لیکن اس کیلئے ریلوے کے انفراسٹرکچر کو پہلے سے زیادہ بہتر کرنے کی ضرورت ہے وہ اسلیئے کہ ایک سال میں ریلوے میں 108 ٹرین حادثات ہوئے جس سے جانی اور ریلوے کو ناقابل تلافی معاشی نقصان پہنچا یہ حادثات خستہ حال ٹریک اور مختلف انتظامی وجوہات اور غفلت کے باعث پیش آئے
ایک رپورٹ کے مطابق جون 2024 سے 2025 میں 108 اور رواں سال یکم جنوری سے اب تک مسافر اور مال بردار ٹرینوں کے پٹریوں سے اترنے اور مختلف نوعیت کے 45حادث رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں مسافر ٹرینوں کے پٹریوں سے اترنے کے 22 جبکہ مال بردار ٹرینوں کے 20 اور 3 دیگر حادثے شامل ہیں
وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی صاحب، چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان ریلویز عامر خان بلوچ صاحب، سی او پی ایس مرہم گیلانی صاحبہ اور ریلوے کے اعلیٰ حکام ریلوے میں بہتری لانے کی اپنے تئیں کوششوں میں مصروف عمل تو ہیں لیکن وفاقی حکومت ریلوے کو وہ پذیرائی نہیں دے رہی جو این ایچ اے کو میسر ہے
پاکستان ریلوے میں ML-1 منصوبہ عرصہ دراز سے شروع ہونے کا منتظر ہے پچھلی دو حکومتیں میں بھی اس منصوبے کے آغاز کی نوید سنائی گئی مگر ایم ایل ون منصوبہ شروع نہ ہوسکا اور آج آئے روز مسافر اور مال بردار ٹرینوں کے پٹریوں سے اترنے کے حادثات پہ در پہ ہو رہے ہیں لیکن وفاقی حکومت اور وزارت منصوبہ بندی و ترقیاتی بورڈ اس پر خاموشی تانے ہوئے ہے وزیراعظم محمد شہباز شریف صاحب نے ریلوے کو گوادر پورٹ سے لنک کرنے پر زور دیا ہے لیکن انہیں چائیے کہ وہ ریلوے کے ML-1 منصوبہ کا بھی آغاز کروائیں تاکہ ریلوے میں جان پڑھے اور ریلوے ترقی کی منازل طے کرے لاہور میں اورنج لائن ٹرین چلانے کیلئے منصوبہ مکمل ہو جاتا ہے جو کہ خوش آئند ہے لیکن چاروں صوبوں کی یکجتی کی زنجیر ریلوے حکومتی توجہ کی منتظر ہے ریلوے کی ترقی و بقا اور عوام الناس کو محفوظ سفر ریلوے کو عالمی معیار کی سطح پر لانے کیلئے ML-1 منصوبہ کا آغاز ناگزیر ہے
وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان ریلویز عامر خان بلوچ اور ریلوے کا کمرشل سیکٹر مال بردار ٹرینوں کی تعداد کو بڑھانے کی طرف منصوبہ بندی کرے ملک سے بیرون ملک چاول۔سپورٹس۔سرجری۔کٹلری،اور دیگر اشیاء بھجوانے کا حب نارووال سیالکوٹ وزیر آباد گوجرانولہ ڈویڑن ہے ریلوے کا انفراسٹرکچر موجود ہے صرف چاول کی مال بردار ٹرانسپورٹیشن سے ریلوے 50 ارب سالانہ ریونیو حاصل کر سکتا ہے لہذا ریلوے کے لاہور ڈویڑن سیکٹر سے مال بردار ٹرینوں کو چلانے کے انتظامات ترتیب دیئے جائیں
ہم وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی صاحب چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان ریلویز عامر خان بلوچ صاحب سی او پی ایس مرہم گیلانی صاحبہ ڈویڑنل سپرٹنڈنٹ لاہور۔ڈپٹی سی او پی ایس کامران سعید کے شکر گزار ہیں کہ عرصہ دراز سے لاہور نارووال سیالکوٹ وزیر آباد سیکشن کی سیالکوٹ ایکسپریس کو بحال کرکے رواں دواں کر دیا گیا ہے اس ضمن میں گزارش ہے کہ سیالکوٹ ایکسپریس کو UP اور Down سائیڈ پر کالا خطائی اور مہتہ سوجا ریلوے اسٹیشنز پر سٹاپ دیئے جائیں کیونکہ عوام کی بڑی تعداد اپنے ان ریلوے اسٹیشنز پر لاہور اور نارووال سیالکوٹ وزیر آباد سفر کرنے سے محروم ہیں ریلوے حکام ان اسٹیشنز پر جلد ازجلد سیالکوٹ ایکسپریس 171اپ172ڈاون کو سٹاپ کرنے کی منظوری دے۔
وزیر ریلوے نارووال لاہور سیکشن پر ٹرینوں میں بوگیوں کی کمی کا نوٹس لیں کیونکہ چند روز قبل ٹرین میں کم بوگیوں کی وجہ سے شدید گرمی میں گھٹن سیبزرگ شہری محمد سلیم ضیاء جو انجمن تاجران نارووال کے جنرل سیکرٹری تھے وفات پا گئے تھے اس افسوسناک واقعے پر اہل نارووال نے ریلوے کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے لہذا انسانی حقوق کے احترام میں نارووال سیکشن پر بوگیوں کی مطلوبہ میں اضافہ کرکے ٹرینوں کے ساتھ روانہ کی جائیں
دوسری جانب صوبائی سیکرٹری مواصلات و تعمیرات پنجاب سے انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے گزارش ہے کہ نیو نارووال کرتار پور روڈ پر دربار عالیہ سید میراں کاظمی الہ پور سیداں نارنگ مقام پر سڑک پر انتہائی خطرناک ڈائیورشن کی وجہ سے درجنوں خوفناک ٹریفک حادثات میں درجنوں افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں
جناب سیکرٹری مواصلات پنجاب صاحب آپ کی ہدایات پر چیف انجینئر سینٹرل زون نے کرتار پور روڈ کے آلہ پور سیداں اور دیگر مقامات پر سڑک کی ڈائیورشن کو درست کرنے اور دیگر حفاظتی امور کا تخمینہ بجٹ سیکرٹری آفس پہنچا دیا ہے لہذا ان فنڈز کی منظوری عنایت فرمائیں اور ضلع شیخوپورہ تحصیل مریدکے نارنگ کی تین اہم سڑکیں مہتہ سوجا تا نارووال مریدکے لنک روڈ۔نارنگ تا محمدی والا لنک نارووال مریدکے روڈ۔اور یونس روڈ لنک کالا خطائی کرتار پور روڈ کی تعمیر کیلئے بجٹ 2025-26 سے فنڈز جاری کرکے ان سڑکوں کی تعمیر مکمل کروائیں اور دعائیں لیں۔