ریلوے خوشحالی کی طرف گامزن

چودھری فرحان شوکت ہنجرا 

چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان ریلویز عامر علی بلوچ نے قوم کو خوشخبری دی ہے کہ پاکستان ریلویز کی مسلسل کامیابی اور بہتری کا سفر جاری ہے بہتر ٹرین آپریشن اور مناسب اقدامات کے باعث گزشتہ 2 سالوں میں پاکستان ریلویز نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں جبکہ ریلوے کی آمدنی اور ٹرینوں کی تعداد میں اصافہ جبکہ آپریشنل اخراجات میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے مالی سال 25?2024 کے ابتدائی 5 ماہ کے دوران پاکستان ریلویز نے37.5 ارب روپے کی ریکارڈ آمدن حاصل کی یہ آمدن گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے دوران حاصل ہونے والی 37.9 ارب روپے کے مقابلے میں 15 فیصد زائد ہے۔سی ای او ریلوے نے مزید کہا کہ گزشتہ مالی سال میں بھی پاکستان ریلویز نیکئی برسوں کا آمدنی کا ریکارڈ قائم کیا تھا جو اس سال مزید بہتر ہوگا مالی سال 2024.25 کے ابتدائی پانچ ماہ میں ٹرینوں کی تعداد میں اضافے کے باوجود فیول اخراجات میں 13.75فیصد کمی کی گئی ہے جو ایک بڑی کامیابی ہے سی ای او ریلوے عامر علی بلوچ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ 109 ارب حکومتی ہدف بھی پورا کریں گے 
چیف ایگزیکٹو آفیسر پاکستان ریلویز عامر علی بلوچ صاحب کی جانب سے ریلوے کارکردگی میں بہتری اور خاطر خواہ آمدن کا حصول ایک تازہ ہوا کا جھونکا ہے یہ  بہتر ٹیم ورک کا نتیجہ ہے جس میں ریلوے افسران و ٹیکنیکل و جنرل سٹاف کی شبانہ روز کی محنت بھی شامل ہے پاکستان ریلوے ادرہ پاکستان کے تمام صوبوں میں یکجتی کی علامت ہے جو اب بھی نامساعد مسائل کے باوجود عوام کو سستی سفری سہولت مہیا کر رہی ہے ریلوے کو حکومت کی کوئی مالی سپورٹ حاصل نہیں اس کے باوجود بھی ریل کا پہیہ چل رہا ہے جو کہ غنیمت ہے پی آئی اے۔پاکستان سٹیلزملز۔سفید ہاتھی قومی ادارے بن جانے کے باوجود سینکڑوں ارب روپے حاصل کرنے کے باوجود ملکی خزانے پر بوجھ بنے ہوئے ہیں لیکن ریلوے جو پاکستان کے عوام کا حقیقی ترجمان قومی ادارہ ہے اسے حکومت اگر تھوڑی سی ہی مالی سپورٹ فراہم کردے تو ریلوے اپنے ماضی کے شاندار دور میں واپس آسکتی ہے 
ہماری ریلوے حکام سے گذارش ہے کہ وہ فریٹ ٹرینوں کو زیادہ سے زیادہ آپریشنل کرے پاکستان نے پچھلے مالی سال میں 4 ارب ڈالر اور موجودہ مالی سال میں 5 ارب ڈالرسے زائد زرمبادلہ چاول ایکسپورٹ کرکے حاصل کیئے ہیں ریلوے حکام اس کا جائزہ لیی کہ چاول کی کراچی پورٹ تک ترسیل کیلئے ہمارا حصہ زیادہ ہونا چاہیے کیونکہ ریلوے کے فریٹ ریٹس روڈ ٹرانسپورٹ کے مقابلے میں بہت کم ہیں لہذا چاول کی پیداوار کا حب ایریا ضلع شیخوپورہ نارنگ نارووال سیالکوٹ وزیر آباد گوجرانولہ حافظ آباد ننکانہ جھنگ گجرات منڈی بہاوالدین ہے ریلوے کا لاہور تا نارووال سیالکوٹ سیکشن۔سیالکوٹ تا وزیر آباد۔وزیرآباد سے فیصل آباد اور کراچی لنک ٹریک پر فریٹ ٹرینوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ناگزیر ہے پاکستان ریلویز چاول۔سپورٹس۔سرجری۔کٹلری مصنوعات کی ترسیل کرکے کمرشل ٹرانسپورٹ کے زریعے آمدنی میں 70 سے 80 ارب روپے حاصل کر سکتا ہے
 ریلوے انتظامیہ سیالکوٹ سے نارووال نارنگ اور سیالکوٹ سے وزیر آباد فیصل آباد سیکشنز پر ریلوے فریٹ ٹرینیں جلانے کا پلان ترتیب دے اور لاہور۔شیخوپورہ۔نارووال۔سیالکوٹ۔گوجرانوالہ گجرات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ایگزیکٹو باڈی سے ریلوے ہیڈکوارٹر میں کانفرنس کرے اور انہیں ریلوے کے زریعے اپنی اشیاء￿  کی ترسیل کا پلیٹ فارم پر  ریلوے تاجر ایکسپورٹرز و امپورٹرز معاہدہ کریں 
جناب عامر علی بلوچ صاحب لاہور نارووال سیکشن پر 2008سے بند ہوئی ٹرینوں کی بندش پر آپ کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں کہ ریلوے کا لاہور نارووال سیکشن سب سے مصروف سیکشن ہے اس پر مسافروں کی بہت زیادہ تعداد سفر کرتی ہے لیکن ٹرینوں کی بندش سے عوام عرصہ درازسے اس سیکشن پر ٹرینوں کی بحالی کا مطالبہ کر رہی ہیں آپ نے ٹرینوں میں اضافے اور آپریشنل اخراجات میں بچت کا حوالہ دیا ہے جو کہ حوصلہ افزا امر ہے لہذا ریلوے و عوامی مفاد عامہ میں گزارش ہے کہ 217اپ218ٹرین کو فی الفور بحال کرکے اسے جلد نارووال سیکشن پر چلانے کا اعلان کیا جائے یہ عوام کے  چہروں پر چھائی اداسی  کو مسکراہٹ و خوشی کا باعث بنے گی اسی طرح نارووال پسنجر 211اپ212ڈاون کے وقت کو تبدیل کرکے اسے صبح 7:20پر چلایا جائے اور نارووال پسنجر کو سیالکوٹ تک توسیع دی جائے اس ایک ٹرین سے صبح کے وقت لاہور سے سیالکوٹ اور سہ پہر سیالکوٹ سے لاہور اسی طرح نارووال سے سیالکوٹ اور سیالکوٹ سے نارووال تک سفر کرنے والے مسافروں کو ایک ٹرین کے روٹ میں توسیع سے آپ ڈاؤن سائیڈز پر دو ٹرینوں کے آٹو میٹرک اضافے سے سفری سہولت حاصل ہوگی اور ریلوے کو نارووال پسنجر ٹرین سے آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔دوسری جانب فیض احمد فیض ٹرین کے لاہور سے رات7:15کی بجائے رات 9 بجے کے بعد چلنے کا نوٹس لیں جس کی وجہ یہ ہے کہ نارووال پسنجر جب رات کو لاہور پہنچتی ہے اس کے ریگ کو فیض احمد فیض ٹرین بنا کر نارووال روانہ کیا جاتا ہے سوال یہ ہے کہ فیض احمد فیض کا ریگ کدھر گیا عوام کا سخت استحصال ہو رہا ہے لہذا فیض احمد فیض ٹرین کو اس کا ریگ لگا کر رات بروقت 7:15 روانہ کیا جائے اب یہ ٹرین رات 12 بجے نارووال پہنچتی ہے۔
پاکستان ریلویز ایمپلائز پریم یونین کے صدر شیخ محمد انور صاحب اور ان کی ٹیم بھی ریلوے کی بحالی اور خوشحالی کیلئے دن رات محنت کر رہے ہیں اور ریلوے اور ملازمین کی فلاح و بہبود کیلئے اپنی جہدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں گزشتہ دنوں ریلوے پریم یونین پاکستان کے صدر شیخ محمد انور صاحب نے برطانیہ کا دورہِ کیا اور وہاں انگلینڈ ٹرانسپورٹ یونین کے صدر سے باہنی ملاقات کی انگلینڈ ٹرانسپورٹ یونین کے صدر نے ریلوے کے ایم ایل ون منصوبہ کو اہم ترین اچیومینٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے سے پاکستان ریلوے میں انقلابی تبدیلیاں آئیں گی۔