دیکھیں گے کتنی سرکاری رہائش گاہوں پر ریٹائرڈ جج قابض ہیں(لاہور ہائی کورٹ)

،ممبر پنجاب سروس ٹربیونل کو حکومت نے رہائشی دینی ہے، ہائیکورٹ نے نہیں، جن کا استحقاق نہیں بنتا انہیں کیوں رہائش دی گئی
 60ججوں میں سے صرف 12 کیلئے رہائش گاہیں ہیں، یہ دیکھیں گے کتنے ریٹائرڈ ہوچکے ہیں:چیف جسٹس‘سماعت4 دسمبر تک ملتوی

 لاہور (یواین پی) لاہور ہائیکورٹ نے ججزو جوڈیشل افسران کی سرکاری رہائشگاہوں بارے درخواست پر سماعت 4 دسمبر تک ملتوی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں  دیکھیں گے کتنی سرکاری رہائش گاہوں پر ریٹائرڈ ججز قابض ہیں؟،ممبر پنجاب سروس ٹربیونل کو حکومت پنجاب نے رہائشی دینی ہے، ہائیکورٹ نے نہیں، ان سے گھرخالی نہیں کروایا گیاجن کا استحقاق نہیں بنتا انہیں کیوں رہائش دی؟۔لاہور ہائیکورٹ میں چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ججز، جوڈیشل افسران کی سرکاری رہائشگاہوں کے متعلق دائر کیس پر سماعت کی۔ دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے  60ججز میں سے صرف 12ججز کیلئے رہائش گاہیں، یہ دیکھیں گے کہ کتنے ریٹائرڈ ہوچکے ہیں اور سرکاری رہائش گاہیں ان کے قبضے میں ہیں۔چیف جسٹس نے کہا ممبر پنجاب سروس ٹربیونل کو حکومت پنجاب نے رہائشی دینی ہے، ہائیکورٹ نے نہیں، ان سے گھرخالی نہیں کروایا گیاجن کا استحقاق نہیں بنتا انہیں کیوں رہائش دی؟۔ عدالت نے کہا کہ کیٹیگریز سے ہٹ کر گھر الاٹ ہوئے۔ ایڈیشنل سیکریٹری ویلفیئر نے بتایا کہ رپورٹ کے مطابق 237رہائش گاہیں ہیں جس میں کچھ وزیر اعلی کی ہدایت پر آؤٹ آف ٹرن دی گئی ہیں، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ یہ غلط ہے۔عدالت نے ایڈیشنل سیکرٹری ویلفیئر کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حکم دیا کہ بتائیں کہ سرکاری گھر میرٹ پر الاٹ ہوئے یا نہیں۔ بعد ازاں کیس کی سماعت 4دسمبر تک ملتوی کردی گئی۔