اسلام آباد: وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ 10 مئی کی کامیابی کو برقرار رکھنے کے لیے مضبوط معیشت کا قیام ناگزیر ہے کیونکہ مضبوط دفاع کے لیے مضبوط معیشت بھی ضروری ہے۔
یہ بات انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ بار میں یومِ تکبیر کی تقریب سے خطاب کے دوران کہی۔احسن اقبال نے کہا کہ مئی کا مہینہ پاکستان کے لیے فخر کا مہینہ ہے، جہاں 28 مئی کو اور 10 مئی کو بھی ہم نے جذبے اور حوصلے کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے والے ذوالفقار علی بھٹو اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ اس پروگرام کو آگے بڑھانا ہر حکومت کی ذمہ داری رہی ہے۔ انہوں نے نواز شریف کی بین الاقوامی دباؤ اور لالچ کو ٹھکرانے کی صلاحیت کو بھی سراہا کہ جس نے پاکستان کو ایٹمی دھماکوں تک پہنچایا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ "اڑان پاکستان" منصوبہ دفاعی نظام میں ٹیکنالوجی کو شامل کرنے کا ثبوت ہے، اور آج پاکستان نے پرائمری اسکولوں میں بچوں تک ٹیبلیٹس پہنچا دیے ہیں۔ انہوں نے ڈیجیٹل انقلاب کے ذریعے ملک میں آنے والی تبدیلیوں پر بھی روشنی ڈالی۔احسن اقبال نے 2017 میں نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے کو ملک میں سیاسی بحران کی ابتدا قرار دیا۔
پاک بھارت حالیہ کشیدگی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 10 مئی کی کامیابی میں ٹیکنالوجی کا بڑا کردار تھا، اور پاکستان آج ایف 17 تھنڈر جیسی جدید لڑاکا طیارے بنا رہا ہے جبکہ ماضی میں ہم سائیکل بھی نہیں بنا سکتے تھے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان 1999 تک جنوبی ایشیا کی پہلی بڑی طاقت تھا لیکن آج اقتصادی مسائل اور ناموافق پالیسیاں اس مقام کو متاثر کر رہی ہیں۔احسن اقبال نے واضح کیا کہ یومِ تکبیر صرف ماضی کی کامیابی کا جشن نہیں بلکہ مستقبل کے لیے عزم کا دن ہے۔ انہوں نے پاکستان فضائیہ کی کامیابیوں کو بھی سراہا کہ جس نے بھارت کے تین رافیل اور دیگر چھ جہاز گرا کر اپنی برتری ثابت کی۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی جارحیت کا بہادری سے جواب دیا گیا، جس کی چیخیں واشنگٹن تک سنائی دیں اور بھارت نے سیزفائر کی درخواست کی جسے پاکستان نے قبول کیا۔ احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے مگر اگر جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔