کراچی میں صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے پی ٹی آئی کے بانی کے حوالے سے سخت ردعمل دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی اصل رسیدیں دکھا دیں تو وہ رہا ہو سکتے ہیں، کیونکہ جب ان سے رسیدیں مانگی گئیں تو بوگس رسیدیں سامنے آئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی نے ملک کا 50 ارب روپے کھایا، اور اب وہ کہہ رہے ہیں کہ ڈکار بھی نہیں مارنا چاہیے۔احسن اقبال نے تحریک انصاف کے رہنماؤں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ لوگوں سے رسیدیں مانگتے تھے، لیکن جب خود ان سے رسیدیں مانگی گئیں تو جواب نہیں ملا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ انصاف نہیں بلکہ ’’تحریک انصاف‘‘ ہے۔وزیر منصوبہ بندی نے حکومت کی ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ 31 دسمبر کو وزیراعظم نے ’’اڑان پاکستان‘‘ کے نام سے ایک نیا منصوبہ لانچ کیا ہے۔ انہوں نے ماضی کے تین ’’اڑان‘‘ منصوبوں کا ذکر کیا جو ناکام ہوئے تھے اور کہا کہ ’’اڑان پاکستان‘‘ سیاست سے بالاتر ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے وفاقی منصوبوں کی جانب توجہ دلائی ہے اور سندھ میں وفاقی حکومت کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ وفاقی حکومت کی امداد سے چلنے والے منصوبوں پر کام رکنے نہیں دیا جائے گا۔
احسن اقبال نے کہا کہ وفاق سیلاب متاثرین کی بحالی میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے، اور زراعت، صنعت، ٹیکنالوجی اور تخلیقی صنعت کے فروغ کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ انہوں نے پاکستان کی عالمی سطح پر معاشی مقابلے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان کو ایک باوقار ملک بنانا ہے۔وزیر منصوبہ بندی نے مزید کہا کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی دونوں بڑی جماعتیں ہیں اور اگرچہ ان کے اپنے نظریات ہیں، لیکن ملک کے مفاد میں دونوں جماعتیں ایک پیج پر آجاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2022 کے سیلاب کے بعد سندھ حکومت کی مدد کی جائے گی، اور سب کے ساتھ مل کر پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے کی کوشش کی جائے گی۔احسن اقبال نے سائبر سپیس کے خطرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اس وقت غیر اعلانیہ جنگ کا سامنا ہے، اور سائبر بزنس کی حفاظت بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں سافٹ ویئر انڈسٹری ترقی کر رہی ہے۔
انہوں نے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک جیسے آسٹریلیا اور امریکہ کی مثال دی، جہاں سوشل میڈیا پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ احسن اقبال نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی سٹاک مارکیٹ نے ترقی کی ہے اور مہنگائی میں کمی آئی ہے۔آخر میں انہوں نے دہشت گردی کے خلاف مفاہمت کی سیاست کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ معیشت کا دارومدار 30 ارب ڈالر کی ایکسپورٹ کو 100 ارب ڈالر تک پہنچانے پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہدف صوبوں کو ساتھ لے کر حاصل کیا جائے گا۔