تل ابیب/تہران: مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر انتہائی سنگین مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو نے ایران پر حملے جاری رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو نے کہا ہے کہ "ایران کی میزائل تیاری کی صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کر دیں گے۔"
اسرائیلی قیادت کے بیانات
نیتن یاہو نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف جاری کارروائیوں کا کوئی ٹائم فریم نہیں دیا جا سکتا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ایران نے سرخ لکیر عبور کی ہے جس کا نتیجہ اسے بھگتنا ہوگا۔اسی حوالے سے اسرائیل کے آرمی چیف نے کہا کہ "ایران تک راستہ صاف ہو گیا ہے، اور اب ہم تہران میں اہداف کو نشانہ بنانا شروع کریں گے۔"جبکہ اسرائیلی وزیرِ دفاع نے بیان دیا کہ "شہری علاقوں پر میزائل داغ کر ایران نے سرخ لکیر پامال کی ہے، جس کا خمیازہ اسے بھگتنا ہوگا۔"
حملوں اور جانی نقصان کی تفصیل
واضح رہے کہ جمعے کی صبح اسرائیل نے ایران میں درجنوں مقامات پر فضائی حملے کیے جن میں فوجی قیادت کی رہائش گاہیں، عسکری اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ان حملوں میں اب تک 78 افراد شہید ہو چکے ہیں جن میں 6 جوہری سائنسدان بھی شامل ہیں۔
ایران کا بھرپور جواب: ’وعدہ صادق 3‘
جواباً ایران نے اسرائیل پر بڑے پیمانے پر میزائل حملے کیے جنہیں ’وعدہ صادق 3‘ کا نام دیا گیا۔
پہلے حملے میں تقریباً 100 میزائل
دوسرے حملے میں 50 میزائل
اور تیسرے حملے میں بھی 50 کے قریب میزائل فائر کیے گئے۔
تل ابیب پر حملے
ایران کے ان حملوں میں اسرائیل کا دارالحکومت تل ابیب دھماکوں سے گونج اٹھا۔اسرائیل کا میزائل دفاعی نظام – جسے امریکی حمایت حاصل تھی – نے کچھ میزائل فضا میں تباہ کر دیے، مگر کئی میزائل تل ابیب کے مختلف علاقوں میں جا گرے۔ان میں سے ایک میزائل نے اسرائیلی وزارتِ دفاع کی عمارت کو بھی نشانہ بنایا۔
صورتحال انتہائی نازک
خطے میں موجود غیر ملکی مبصرین اور سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کی جانب سے اس سطح کی کارروائیاں ایک بڑی جنگ کا پیش خیمہ ہو سکتی ہیں، اور کسی بھی لمحے صورتِ حال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔