نیتن یاہو جنگی مجرم ہیں، انہیں قانون کا سامنا کرنا چاہیے: نیویارک کے میئر ظہران مامدانی

نیتن یاہو جنگی مجرم ہیں، انہیں قانون کا سامنا کرنا چاہیے: نیویارک کے میئر ظہران مامدانی

نیویارک شہر کے میئر ظہران مامدانی نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ کے پاس اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کا قانونی اختیار موجود نہیں، تاہم امریکی وفاقی حکومت کو اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ظہران مامدانی نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں بتایا کہ ان کی انتظامیہ نے اس بات کا تفصیلی قانونی جائزہ لیا کہ اگر بنیامین نیتن یاہو نیویارک آتے ہیں تو کیا شہر کی انتظامیہ انہیں گرفتار کر سکتی ہے یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ قانونی جائزے کے بعد یہ واضح ہوا کہ نیویارک سٹی حکومت کے پاس بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹ پر خودمختار طور پر عمل درآمد کا اختیار موجود نہیں۔ظہران مامدانی نے کہا، "بنیامین نیتن یاہو ایک جنگی مجرم ہیں اور فلسطینی عوام کے خلاف ہونے والی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔" ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ شہر کی انتظامیہ کے پاس گرفتاری کا اختیار نہیں، لیکن امریکی وفاقی حکومت کے پاس یہ اختیار موجود ہے اور اسے اس حوالے سے کارروائی کرنی چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ جن افراد کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت نے الزامات عائد کیے ہیں، انہیں قانون کے مطابق عدالت کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے 2024 میں غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے تناظر میں بنیامین نیتن یاہو کے خلاف مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم سے متعلق معقول شواہد کی بنیاد پر وارنٹ گرفتاری جاری کیا تھا۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اگر نیتن یاہو ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکا آئے تو انہیں گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ادھر اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے ظہران مامدانی کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے ایک بار پھر بین الاقوامی فوجداری عدالت کو غیر جانبدار ادارہ تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق نیتن یاہو کی ممکنہ امریکا آمد اور آئی سی سی کے وارنٹ گرفتاری کے معاملے نے ایک بار پھر بین الاقوامی قانون، امریکی داخلی سیاست اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔