پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ سے متعلق قرارداد امریکہ کے ویٹو کی وجہ سے منظور نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک ’سیاہ لمحہ‘ قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے کوششیں جاری رکھے گا اور غزہ میں اسرائیلی جارحیت کو اجاگر کرے گا۔ عاصم افتخار نے بتایا کہ غزہ میں روزانہ درجنوں شہری شہید ہو رہے ہیں اور خوراک کی قلت کی وجہ سے بچے بھوک سے مر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اسرائیل نے غزہ پر حملوں میں ہسپتالوں کو بھی محفوظ نہیں چھوڑا۔پاکستانی مندوب نے سلامتی کونسل کے ارکان کو واضح کیا کہ پاکستان فلسطینی عوام کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتا ہے اور غزہ میں فوری، غیر مشروط جنگ بندی ہونی چاہیے۔
واضح رہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں جاری ہیں، جس میں بچوں اور خواتین سمیت درجنوں فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ پاکستان سمیت سلامتی کونسل کے 10 غیر مستقل ارکان نے فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کے لیے قرارداد پیش کی، لیکن اسے امریکہ نے ویٹو کر دیا۔ اس قرارداد میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ فلسطینی علاقوں میں امدادی سامان کی فراہمی پر عائد تمام پابندیاں ختم کرے۔