غیرت مند قوم کی ایٹمی داستان

 ڈاکٹر جمشید نظر
1938ء میں جرمنی کے دو سائنس دان’’ آٹوہان‘‘ اور’’ قرٹز سٹراسمان‘‘ نے ایک اہم سائنسی انکشاف کیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ یورینیم نامی دھات سے ایک ایسا بم بنایا جا سکتا ہے جو بہت بڑی تباہی پھیلا سکتا ہے۔ اس بم کو بعد میں ایٹم بم کا نام دیا گیا۔ جرمن حکمران ایڈولف ہٹلر کوجب اس بات کی خبر ملی تو اس نے سائنس دانوں کو حکم دیا کہ وہ فوراً ایٹم بم تیار کریں تاکہ وہ اپنی طاقت کے بل بوتے پر دنیا پر حکومت قائم کر سکے تاہم ہٹلر کا خواب حقیقت نہ بن سکا کیونکہ اس نے خودکشی کر لی۔ تاریخ میں ایڈولف ہٹلر کو ایک کروڑ دس لاکھ انسانوں کے قتل کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے اور دوسری جنگ عظیم کی شروعات بھی اسی کے اقدامات کی وجہ سے ہوئی جس میں تقریباً پانچ کروڑ لوگ مارے گئے۔ اگر ہٹلر کو اپنی زندگی میںایٹم بم بنانے میں کامیابی حاصل ہو جاتی تو شاید دنیا مزید بڑے المیہ سے دوچار ہو جاتی۔
ادھر امریکہ نے خفیہ طور پر ایٹم بم بنانے کا منصوبہ شروع کیا۔ جب مشہور سائنس دان’’ البرٹ آئن سٹائن‘‘ کو معلوم ہوا کہ نازی ایٹمی ہتھیار تیار کر رہے ہیں تو اس نے امریکی صدر’’ فرینکلن روز ویلٹ‘‘ کو ایک خط لکھا۔ اس خط میں اس نے نازیوں کے عزائم سے خبردار کیا۔ اس خط کے بعد امریکہ نے سرکاری سطح پر ایٹم بم بنانے کے لیے ایک بڑا منصوبہ شروع کیاجس کی قیادت ماہر طبیعات’’ رابرٹ اوپین ہائیمر ‘‘کے سپرد کی گئی۔ 1945ء میں امریکہ نے نیو میکسیکو کے ریگستان میں پہلا ایٹمی تجربہ کیا جسے ’’ٹرینٹی‘‘ کا نام دیا گیا۔ ایٹمی تجربہ کی کامیابی کے بعد امریکہ نے جاپان کے دو شہروں’’ ہیروشیما‘‘ اور’’ ناگاساکی ‘‘پر ایٹم بم گرادیئے۔ ان بم دھماکوں سے اندازاً ڈیڑھ سے ڈھائی لاکھ لوگ موت کے منہ میں چلے گئے۔ کئی ہزازندہ لوگ جل کر موم بن گئے اوروہاں کی زمین برسوں تک تابکاری شعاعوں سے متاثر رہی۔ ان ہولناک نتائج کو دیکھ کر سائنس دان ’’اوپین ہائیمر‘‘ شدید رنجیدہ ہوا اور کچھ ہی عرصے بعداس نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
جاپان پرایٹمی تباہی کے اثرات کو دیکھ کر دنیا نے جان لیا کہ ایٹم بم صرف جنگی ہتھیار نہیں بلکہ انسانیت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے اسی بناء پرایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاو کو روکنے کی عالمی مہم شروع ہوگئی لیکن بھارت کی حکومتیں ہٹلر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہمیشہ سے ایٹمی طاقت حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل رہیں۔ 18 مئی 1974 کو بھارت نے امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا کی مدد سے پہلا ایٹمی تجربہ کیا جس کے بعد خطے میں طاقت کا توازن بگڑ گیا۔ پاکستان کے پاس اب صرف ایک ہی راستہ بچا تھا کہ ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کرے۔ پاکستان کے پاس اس وقت نہ وسائل تھے اور نہ ہی جدید ٹیکنالوجی لیکن ایک بلندعزم اور جذبہ حب الوطنی تھاجس کے بل پوتے پر اُس وقت کے وزیر اعظم پاکستان شہیدذوالفقار علی بھٹونے پاکستان کا ایٹمی پروگرام فوری طور پر شروع کرنے کا اعلان کیا۔شہید ذوالفقار علی بھٹو کا مشہور تاریخی جملہ تھا کہ ’’ہم گھاس کھا لیں گے لیکن ایٹم بم ضرور بنائیں گے۔‘‘
ایٹمی دوڑ میں شامل بھارت نے11مئی1998کو ایک مرتبہ پھر اپنی برتری دکھانے کے لئے تین ایٹمی دھماکے کردیئے اوردو روز بعد13مئی کو مزیددو ایٹمی دھماکے کردیئے۔بھارت کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے بعد خطہ میں سنگین صورتحال پیدا ہوگئی۔دنیا بھر کی نظریں پاکستان پر مرکوز ہو گئیںکہ اب پاکستان کیا کرے گا۔بھارت سمیت دنیاشائد اس بات سے بے خبر تھی کہ پاکستان نے طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لئے نہ صرف ایٹمی پروگرام شروع کررکھا ہے بلکہ ایٹمی دھماکے کرنے کی بھی بھرپورصلاحیت رکھتا ہے چنانچہ پاکستان نے جب بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں ایٹمی دھماکے کرنے کا ارادہ کیا تو امریکہ اور مغربی طاقتوں نے پاکستان پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ۔ پاکستان کو کبھی اقتصادی پابندیوں کی دھمکیاں دی گئیں تو کبھی اربوں ڈالر کی مالی امداد کا لالچ دیا گیا لیکن اس وقت کے وزیر اعظم محمدنواز شریف نے تمام عالمی طاقتوں کے دباؤ اور پیشکشوں کویکسر مسترد کر دیا اورصرف قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے جوابی ایٹمی دھماکے کرنے کا پختہ ارادہ کرلیااور پھر 28مئی 1998کے روزسہ پہر 3بج کر16منٹ پر ایک بٹن پریس کرتے ہی ایسا زور دار ایٹمی دھماکہ ہوا کہ جس کی گونج پوری دنیا نے سنی، بلوچستان کا پہاڑ’’چاغی‘‘شعلوں سے دہکتا ہواایک سنہراپہاڑ بن گیا۔ بھارت کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے جواب میں پاکستان نے چھ کامیاب ایٹمی دھماکے کرکے بھارت سمیت دنیا بھر کو حیرت میں مبتلا کردیا۔ایٹمی طاقت بننے کے بعد پاکستان دنیا کا ساتواں اور مسلم دنیا کا پہلا ایٹمی ملک بن گیا۔ یہ صرف ایک سیاسی یا سائنسی کامیابی نہیں تھی بلکہ پوری قوم کی غیرت، قربانی اور مسلسل محنت کا نتیجہ تھی۔ اس کامیابی کا سہرا محمد نواز شریف، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ڈاکٹر ثمرمبارک مند ، شہید ذوالفقار علی بھٹو اور افواج پاکستان کے ساتھ ساتھ ان ہزاروں گمنام محب وطن پاکستانیوں کو بھی جاتا ہے جنہوں نے اس مشن میں دن رات کام کیا۔ پاکستان کے کامیاب چھ ایٹمی دھماکوں کے بعدجب محمدنواز شریف نے قوم سے خطاب کیا تو اُن کے تاریخی الفاظ تھے: ’’آج ہم نے اُن کاحساب چکا دیا ہے۔‘‘ یہ الفاظ پاکستان کی خودداری، حوصلے اور عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔مئی کامہینہ بھارت کی بزدل فوج اور مودی سرکار کو ہمیشہ یاد رہے گا کیونکہ اسی مہینہ 1998 میںپاکستان نے ایٹمی دھماکوں کا جواب دیا اور اسی مہینہ 2025میں پاکستان نے بھارت کے بزدلانہ حملہ کا ایسا جواب دیا کہ اسے جنگ بندی کے لئے عالمی طاقتوں کے سامنے گڑگڑانا پڑا۔مئی کا مہینہ افواج پاکستان کی جرات و بہادری کے کارناموں ،سیاسی و عوامی یکجہتی کے ساتھ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔آخر میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر صاحب کو فیلڈ مارشل کا اعزاز ملنے پر پوری پاکستان قوم کی جانب سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔