سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
آج یہ محفل فکراس لیے آبادہے کہ زمانہ اپنے اوراق بدل رہاہے،دنیاطاقت کی نئی کروٹ لے رہی ہے،اورممالک کے فیصلے اب صرف ایوانوں میں نہیں،بلکہ عالمی دبا،اقتصادی چابک اورسیاسی جبرکی بھٹی میں تپ کرسامنے آتے ہیں۔قوموں کی تقدیرکبھی کبھی ایک قطرہ تیل سے بندھ جاتی ہے،اورکبھی ایک غلط فیصلہ انہیں صدیوں پیچھے دھکیل دیتاہے۔آج ہم جس منظرنامے پرنگاہ ڈال رہے ہیں،اس کے خطوط صرف بھارت کی سیاست تک محدودنہیں،یہ پوری خطے کی صبح وشام سے تعلق رکھتاہے۔
دنیانے دیکھاکہ جب مغرب کے ابرِگماں نے دہلی کے آسمان کوڈھانپا،جب واشنگٹن کی آنکھوں میں شک کی چمک پیداہوئی،توبھارت نے روسی تیل کی شاہراہ پراپنے قدم ڈگمگاتے محسوس کیے۔وہ خریداری جوکبھی بہتے دریاکی مانندتھی،اب قطرہ قطرہ کم ہوتی چلی گئی۔بلوم برگ کی رپورٹ نے گویاوہ آئینہ دنیاکے سامنے رکھ دیاجس میں دہلی کی نئی مجبوری صاف جھلک رہی تھی۔یوں بھارت اور روسی تیل ایک بجھتی شمع کی داستان کوساری دنیانے سن لیا۔جب مغربی دنیاکی آنکھوں میں شک کی سرخی اورواشنگٹن کے ایوانوں میں پابندیوں کی سرگوشیاں بڑھنے لگیں توبھارت کی سیاسی نبض بے ترتیبی سے دھڑکنے لگی۔مغربی دنیاکے دبیزبادل،پابندیوں کے خدشات اورواشنگٹن کی سردآہنی نگاہ نے جب دہلی کے صحن پرسایہ کیاتوبھارت نے روسی تیل کی ندی میں اپناچراغ گل کرناہی مناسب سمجھا۔
روسی تیل،جوکل تک بھارت کی اقتصادی روح کی مانندتھا،اب کسی گناہ کی طرح محسوس ہونے لگا۔وہ خریداری،جوکبھی یوں رواں تھی جیسے گنگا کناروں پرشام کی پوجا،اچانک مدھم پڑگئی اوردنیانے محسوس کیاکہ دہلی اب ماسکوکے نغموں سے نیم جان ہوتاجارہا ہے۔اپنے ہی فیصلوں کی الجھن میں بھارت نے ماسکوکی راہ سے قدم سمیٹناشروع کیے،اوروہ خریداری جوکبھی دریاکی طرح بہتی تھی،اب نالی کی دھاربن کررہ گئی۔یہ صرف تجارت نہیں تھی،بلکہ طاقت کی شاعری تھی جوخاموشی سے اپناوزن بدل رہی تھی۔
امریکی جریدہ بلوم برگ نے وہ خبرلکھی جس نے دہلی کے ایوانوں میں برپامعاشی زلزلے کاپردہ چاک کردیااورمودی جنتالاکھ کوشش کے باوجودچھپانے میں ناکام رہی۔بلوم برگ اپنی روایت کے مطابق شفاف آئینے کی مانندخبرلایاکہ دسمبر کیلئے روسی خام تیل کے سودوں میں بھارت نے نمایاں کمی کردی ہے۔گویابازارِسیاست میں کوئی پوشیدہ لرزش بھارتی قدموں میں درآئی ہو۔دسمبرکی روسی خریداری،جسے بھارت نے ہمیشہ ترجیح دی،اب ہاتھ سے یوں پھسل رہی ہے جیسے کوئی خوف زدہ انسان جلتی ہوئی لکڑی چھوڑدیتا ہے۔دنیانے سمجھ لیاکہ دہلی کے فیصلے اب خودمختارنہیں رہے؛کوئی اورہاتھ اس کے قلم کوچلارہاہے۔
پانچ بڑی ریفائنریوں کی خاموشی،جوہمیشہ کی طرح ماسکوکی طرف اپنے آرڈرروانہ کرتی تھیں،اس بار رک گئی۔یہ خاموشی سیاست کی چیخ تھی؛مودی کاتکبریہ خوفناک شوردنیابھرکی سماعتوں سے جاٹکرایاکہ بھارت کے فیصلے اب آزادنہیں رہے۔اسی شفاف آئینے کے ایک اوررخ پریہ انکشاف بھی جھلملایاکہ بھارت کی پانچ بڑی آئل ریفائنریاں،جوہرماہ کی دسویں تاریخ سے قبل روس کواپنے آرڈر بھیجنے میں دیرنہیں لگاتیں تھیں،اس بارموت کی خاموشی میں گم ہوگئیں،جیسے کسی نے ان کے ہاتھوں سے قلم چھین لیاہو،متحرک زندگی کوموت نے آدبوچاہویا حالات نے انہیں نئے فیصلوں پرمجبورکردیاہو۔یہ خاموشی محض کاروباری مصلحت نہیں تھی؛یہ خوف اورمجبوری کی گواہی بھی تھی۔سیاست کی زبان میں بعض اوقات خاموشی سب سے بلندچیخ ہوتی ہے۔
ادھرہندوستان کی سرکاری ریفائنری آئی اوسی نے اعلانادہلی کی سیاست کانیارخ واضح کیاکہ اب وہ صرف وہی روسی تیل خریدے گی جوپابندیوں کے دائرے سے باہرہو۔گویا سیاسی بھنورمیں تیرتی ایک کشتی نے اپنارخ بدل لیاہو،محض اس خوف سے کہ سمندری طوفان کہیں اس کے توازن کوتہہ وبالانہ کردے۔یہ اعلان نہیں،اعتراف تھا۔یہ وہ لمحہ تھاجب ایک بڑی ریاست نے اپنے فیصلوں پرباہرکے ہاتھوں کاسایہ محسوس کیااوراوپرسے امریکی ٹیرف،وہ بھی پچاس فیصدگویااقتصادی کوڑے کی ایسی ضرب،جس نے دہلی کے نہ صرف پیرہلادیے بلکہ جلاکررکھ دیئے۔ اس پس منظرمیں صدرٹرمپ کے کلمات کسی آندھی کی گرج کی مانندتھے۔انہوں نے کہاکہ بھارت اچھاتجارتی شریک نہیں،اورماسکو سے اس کی تیل کی خریداریاں یوکرین کے میدانِ جنگ کوایندھن فراہم کرنے کے مترادف ہیں۔
اس پس منظرمیں ٹرمپ کے جملے دہلی کے کان میں نہیں،اس کی سیاست کے رگ وپے میں اترگئے۔یہ گویاایک اخلاقی وسیاسی فردِ جرم تھی جس پردنیاکی نظریں جم گئیں۔یہ جملہ نہیں تھا،ایک سفارتی فیصلہ تھا،اورفیصلہ بھی وہ جوقوموں کوپابندِسیاست بنادیتاہے۔یاد رہے کہ روس سے تیل خریدنے پرامریکانے بھارت پرپچاس فیصد ٹیرف عائد کرکے یہ پیغام دیا تھاکہ اقتصادی دنیامیں دوکشتیوں پر سواررہناممکن نہیں۔ایک طرف واشنگٹن کی لوہے کی صورت فشار،دوسری جانب ماسکوکی توانائی کادریابھارت ان دونوں کے درمیان پھنسانظر آیا ۔
آئی او سی کی طرف سے یہ بیان کہ ہم صرف غیرپابندی یافتہ سپلائرزسے روسی تیل لیں گے،درحقیقت ایک سیاسی اعتراف تھا۔یہ انکارنہیں تھا؛یہ نیم قبولیت تھی کہ مودی بھیڑیاجوشیر کی کھال پہن کرخطے کے ممالک پرگرج رہاتھا،ٹرمپ کے بیانئے کے سامنے گیدڑکی طرح دم دباکرعالمی دباکے سامنے نہ صرف جھکنے پرمجبوربلکہ اوندھے منہ گرکرخاک چاٹنے پرمضبورہوگیاہے جیسے کوئی سپاہی ڈھال تورکھے مگرتلوارمقابل کے قدموں میں گرادے۔
امریکاکابھارت پر50فیصد ٹیرف لگاناگویااس معاشی داستان کاسب سے سخت باب تھا۔یہ اعلان نہیں،بلکہ چابک تھااوروہ بھی ایسے وقت پرجب بھارت خودکوعالمی منڈیوں میں ابھرتی طاقت سمجھنے لگاتھا۔یوں محسوس ہوتاہے کہ واشنگٹن نے دہلی کے کان میں وہ جملہ پھونکاجوغلامی کے عہدمیں بھی حکمران سنایاکرتے تھے’’فیصلہ ہماراچلے گا،تم صرف حکم کی تعمیل کروگے‘‘۔امریکی ٹیرف کی ضرب نے بھارت کے ایوانوں میں ہلچل مچادی،اوربالآخرمودی نے واشنگٹن کویقین دہانی کرائی کہ روسی تیل کی راہیں اب رفتہ رفتہ بندکی جائیں گی۔جیسے کسی بڑے حلیف کے سامنے چھوٹے شریک کواپنادامن صاف دکھاناپڑتاہو۔ٹرمپ کے کلمات نہ صرف ایک تنبیہ تھے بلکہ بھارت کی پالیسیوں پرایک تیشہ بھی جوپوری دنیا نے سنااوریہ جملے بھارت کی سفارتی کتاب کے حاشیے اورمودی کے متکبر چہرے پرسیاہ داغ کی طرح ثبت ہوگئے۔
یہاں سوال یہ اٹھتاہے کہ کیامودی سرکارکی پالیسیوں کے نشیب وفرازنے خودبھارت کومعاشی بھونچال کے دہانے پرلاکھڑاکیاہے؟ دانشورحلقوں میں یہ آوازسنائی دیتی ہے کہ غلط فیصلے،سفارتی بے تدبیری اورحماقت سے لبریزجارحانہ بیانیہ کسی بھی قوم کی اقتصادی بساط الٹنے کی سکت رکھتاہے۔
بھاری ٹیرف کے دباکے بعدبھارت نے وہی کیاجوکسی کمزورریاست کیلئے ناگزیرہوتاہے یعنی یقین دہانی دے دی کہ روس سے تیل کے دروازے بندکیے جارہے ہیں۔یہ وہ مقام تھاجہاں بھارت نے اپنی خودمختاری کے بجائے مجبوری کواپنامشیربنالیا۔انہی پالیسیوں کے بطن سے وہ ہولناک صورتِ حال بھی جنم لیتی ہے جس کاحوالہ مئی2025کے عسکری تناؤ میں بھی کھل کرسامنے آگیا۔جنگی تصادم، چاہے مختصرہویاطویل،کسی بھی ریاست کے سیاسی پنداراورعسکری اعتمادپرگہری ضرب لگاتاہے۔بھارتی طیاروں کی تباہی اوراس پرعالمی سطح پرہونے والے تبصرے،خواہ کسی بھی زاویے سے دیکھے جائیں،دہلی کے عسکری منصوبہ سازوں کیلئے سوالیہ نشان چھوڑگئے۔اس کے باوجودپاکستان کے خلاف دوبارہ کشیدگی کی فضاقائم کرنااس امرکی غمازی کرتاہے کہ شایدمودی جیسامتعصب اور اس کے جنگی مافیاہندی سیاست دان تاریخ کے مکتب سے وہ سبق سیکھنے کوتیارنہیں جوشکست اورشرمندگی رقم کر چکی ہے۔
یہ سوال آج دہلی کے ہرمحقق اورہراقتصادی مبصرکے ذہن میں گردش کررہاہے۔مودی سرکارکی پالیسیوں میں جارحیت زیادہ اور حکمت کم ہے اوریہ سوال بھی آج ہردانشورکے ذہن میں بجلی کی مانندلپکتاہے کہ کیاخودمودی حکومت کی نادانیاں بھارت کی معاشی تپش کی ذمہ داراورگراوٹ کاسبب ہیں؟کیامودی پالیسیوں نے خودبھارت کومعاشی دلدل میں دھکیل دیاہے؟بازاروں میں بے چینی، سرمایہ کاروں میں بے اعتمادی،اورسیاسی دباؤکے سامنے باربارجھکنایہ سب کچھ کسی بڑے معاشی طوفان کی آمدکاپتہ دیتاہے۔ جارحیت کانشہ، سفارت کی کمزوری،اورپڑوسیوں کے خلاف مسلسل محاذ کھولنے کی رویہ، وہ راہ ہے جس پرچلنے والے آخرکار تھک بھی جاتے ہیں اورڈوب بھی جاتے ہیں۔یہی وہ طرزِعمل ہے جس کے ثمرات آج دہلی کوشک،خوف اوراقتصادی بے بسی کی شکل میں بھگتنے پڑرہے ہیں۔قومیں تباہی سے تب دوچارہوتی ہیں جب ان کے رہنماحقیقت کے بجائے خوابوں پرحکومت کرنے لگیں۔
ان حالات میں مودی حکومت کاجنگی مافیااگردوبارہ حماقت کرنے پرآمادہ ہوتویہ محض سیاسی نادانی نہیں،بلکہ قومی خودکشی کے مترادف ہوگی۔خودبھارتی ریٹائرڈجرنیلوں کااعتراف کہ اگربھارت نے نئی جنگ چھیڑی توٹوٹ بھی جائے گااوربربادبھی ہوگا۔ (جاری ہے)