انتظار احمد اسد
گذشتہ دنوں برادرم اکرام اللہ سلیمی کی معیت میں استاد محترم ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم اور سید احتشام الحق ہمدانی کی دعوت پر راقم نے سرگودھا میں "ختم نبوت سیمینار میں شرکت کی تھی "تقریب کے مہمان خاص ، دو درجن سے زائد اخبارات کے ایڈیٹر، معروف کالم نگار ، صحافی جناب جبار مرزا تھے۔ واپسی پر سرگودھا سے بھیرہ تک کا سفر جناب جبار مرزا کی معیت میں ہوا۔ دوران سفر ڈاکٹر خان مرحوم کے حوالے سے جو انکشافات ہوئے وہ ایک الگ داستان ہے۔ جبار مرزا ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے بہت ہی قریبی ساتھی ہیں۔ ابھی ہم جبار مرزا کی گفتگو کے سحر سے نکلے ہی نہیں تھے کہ قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل لاہور کے چیئرمین علامہ عبدالستار عاصم نے ڈاکٹر خان صاحب کی کتاب" داستان عزم "ہمیں ارسال فرمائی " داستان عزم"، پاکستان ،کہوٹہ اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کے حوالے سے کی گئی کوششوں کی ایک ایسی دستاویز ہے جس میں ان تمام رازوں سے پردہ اٹھایا گیا ہے جس سے پاکستان کا عام شہری واقف نہیں ہے۔ "داستان عزم " میں پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں جن لوگوں نے اہم کردار ادا کیا ان کا ذکر موجود ہے ۔ ذوالفقار علی بھٹو ،عزیز احمد ،اسحاق خان اور جنرل محمد ضیاء الحق کے حوالے سے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے جو لکھا اسے پڑھ کر عام شہری اور پڑھا لکھا طبقہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا " داستان عزم" جہد مسلسل کی وہ کہانی ہے جس پر آنے والی نسلیں فخر کر سکے گیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کہاں پیدا ہوئے؟ تعلیم کہاں سے حاصل کی؟،انہوں نے بھوپال سے پاکستان میں کیسے ہجرت کی؟، کن کن مشقتوں سے گزرے؟ ،مغربی دنیا میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد بطور سائنسدان کیسے نام کمایا؟!، 1971 میں پاکستان کے دولخت ہونے پر ان کے دل ناتواں پر کیا گزری؟، وہ کیسے پاکستان کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے ملے؟، بھٹو نے ان کو پاکستان آنے پر کیسے قائل کیا؟، یہاں آ کر ان کے ساتھ نام نہاد پاکستانی سائنسدانوں نے کیا سلوک کیا اور پھر عزیز احمد ،اسحاق خان اور ذوالفقار علی بھٹو نے ان کے ساتھ مل کر پاکستان کا ایٹمی پلانٹ کیسے قائم کیا ؟_،"داستان عزم" میں ان تمام سوالات کے جوابات موجود ہیں ۔ یہ کتاب داستان ہے ان مشقتوں، پریشانیوں ،کوششوں اور جہد مسلسل کی جو محسن پاکستان نے پاکستان کے بہی خواہ حکمرانوں کے ساتھ مل کر ناگفتہ بہ حالات میں کی تھیں۔ کتاب مذکورہ میں ان تمام کرداروں کو بھی واضح کیا گیا ہے جنہوں نے قدیر خان کے راستے میں روڑے اٹکائے ۔کہوٹہ کے عام لوگوں سے لے کر خاص لوگوں تک، ایٹمی پلانٹ میں کام کرنے والے عام مزدوروں سے لے کر خاص سائنس دانوں تک کے ناموں کو محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کتاب مذکورہ میں جگہ دی ہے، اس کے علاوہ بے نظیر بھٹو، میاں محمد نواز شریف اور دیگر تمام محسنوں کا ذکر بھی شامل کیا گیا ہے، جنہوں نے کہوٹہ سے چاغی تک کا سنگلاخ سفر ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی ٹیم کے ساتھ طے کر کے پاکستان کو دنیا اسلام کی پہلی ایٹمی قوت بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔کتاب کے شروع میں پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم چوہدری وائس چانسلر یونیورسٹی اف سرگودھا نے "حروف اعزاز "لکھ کر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی سوانح حیات پر سیر حاصل بحث کی ہے ۔ "داستان عزم " 11 ابواب پر مشتمل ہے، جس میں 10 ابواب ڈاکٹر عبدالقدیر خان مرحوم نے لکھے ہیں۔ ان ابواب میں " سانحہ مشرقی پاکستان " "تاریخ کہوٹہ " 28 مئی تاریخ ساز دن " "کہوٹہ میں پیتے لمحات" " سابق صدر غلام حصہ خان کا ایک اہم خط" " بش کی گود سے پہلے پرویز مشرف کا تاریخی خطاب" " ذوالفقار علی بھٹو اور میرا مراسلہ" " ایک اور قربانی " "چوہدری شجاعت حسین کا واشگاف انکشاف اور" ایک واقعہ تاریخی نتائج" شامل ہیں ۔
ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کو ایٹمی پاور بنانے کے لئے کس قدر بے تاب تھے، کتاب مذکورہ کا یہ پیرا اس سے پردہ اٹھاتا ہے " میں نے بھٹو صاحب کے پوچھنے پر بتایا کہ کہوٹہ کی سائٹ چن لی گئی ہے وہ ہر لحاظ سے مناسب جگہ ہے تو غلام اسحاق خان نے کہا سر ایک کمیٹی بنا دیتے ہیں جو اس کا معائنہ کر لے اور پھر
فیصلہ کر لیں بھٹو صاحب نے خان کی طرف دیکھا مسکرائے اور کہا خان صاحب ان کمیٹیوں نے ملک کو تباہ کر دیا نہ میں اس معاملے میں کوئی جانتا ہوں اور نہ اپ اگر ڈاکٹر خان نے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر یہ جگہ پسند کی ہے تو ہمیں کیا اعتراض ہے ہمارے لیے ان کا فیصلہ قابل قبول ہے اور میں اس کی منظوری دیتا ہوں
داستان عزم میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ان سینکڑوں ساتھیوں کا ذکر تفصیل سے موجود ہے جنہوں نے ان کے ساتھ مل کر کام کیا _ان کے مطابق جنرل محمد ضیاء الحق ہفتے میں دو دفعہ ان کے پاس تشریف لاتے اور کام وسیکورٹی معاملات کا جائزہ لیتے _ "داستان عزم " میں سابق صدر غلام اسحاق خان کا ایک خط بھی شامل ہے، جس کو دیکھ کر پتہ چلتا ہے کہ کن مشکل حالات میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے انہونی کو ہونی کر دکھایا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے 10 دسمبر 1984 کو تحریری طور پر صدر پاکستان کو اگاہ کر دیا تھا کہ ہم ہفتے کے نوٹس پر ایٹمی دھماکے کر سکتے ہیں ،اس پر جنرل ضیاء الحق نے خوشی کا اظہار کیا تھا اس کتاب میں ایس ایم ظفر ، چودری شجاعت حسین اور جبار مرزا کے حوالے سے بھی اہم معلومات ہیں۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان شاکی ہیں کہ جنرل مشرف نے ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا ۔چار فروری 2004 کی صبح اس نے ان سے جو وعدے کیے تھے ان کی خلاف ورزی کی گئی ۔ٹیلی فون لائنیں کاٹ دی گئی، بہن بھائیوں بچی اور نواسیوں سے ملنے پر پابندی لگا دی گئی ۔"داستان عزم "میں میر ظفر اللہ خان جمالی کے اس ٹی وی پروگرام کا بھی ذکر ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جنرل مشرف نے انہیں کہا کہ سی ائی اے کا جہاز اسلام اباد ایئرپورٹ پر کھڑا ہے، وہ کیبنٹ سے منظوری لے کر دیں تاکہ ڈاکٹر خان کو امریکہ کے حوالے کر دیا جائے ۔ لیکن جمالی نے صاف انکار کر دیا۔ ڈاکٹر خان ان کالم نگاروں اینکر پرسنز اور صحافی برادری کے بھی شکر گزار ہیں جنہوں نے ان کا ساتھ دیا تھا۔انہوں نے چوہدری شجاعت حسین کی خود نوشت سوانح عمری "سچ تو یہ ہے" کے حوالہ سے اس کتاب کے گیارہویں باب "چوہدری شجاعت حسین کا واشگاف انکشاف" میں چوہدری شجاعت حسین کا یہ بیان درج کیا ہے کہ" ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بڑے پن کا ثبوت دیا ہے اور قومی مفاد میں ساری ذمہ داری اپنے سر لی ہے انہوں نے ایک پیسے کی کرپشن نہیں کی نہ ہی تفشیش کاروں کو کوئی بیان دیا ہے میں نے گزشتہ روز ڈاکٹر خان کو ملاقات میں ملک میں پیدا ہونے والے بحران کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرنے کی استدعا کی تھی انہوں نے تمام ذمہ داری اپنے سر لے کر ملک و قوم کے لیے پہلے سے بڑھ کر کام کیا ہے ۔" داستان عزم "میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی خوبصورت تصاویر بھی شامل ہیں جن کی تعداد سینکڑوں ہے ۔ علامہ عبدالستار عاصم چیئرمین قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسے ہیرو کی کتاب "داستان عزم" شائع کر کے انے والی نسلوں کو تاریخ پاکستان کے ایک اہم گوشے سے متعارف کروانے کی کامیاب کوشش کی ہے جس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں -