بجٹ میں پرتعیش اشیاء پر سیلز ٹیکس 25 فیصد سے زائد کرنے کی تجویز ‘ ان اشیا ء کی فہرست میں مزید مصنوعات شامل کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے
چوری کی روک تھام کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھانے پر زور ‘ ٹیکس چوری کی صورت میں جرمانہ 5 لاکھ سے بڑھا کر 50 لاکھ کرنے کی تجویز
آئی ایم ایف تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے اور تنخواہوں، پینشن میں اضافے پر رضا مند ہوگیا‘ دفاعی بجٹ سے بھی کوئی مسلہ نہیں ہے:ذرائع
اسلام آباد(ایجنسیاں‘مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی بجٹ کے لیے آئی ایم ایف کی سخت تجاویز کے باعث عوام کے لئے مہنگائی کا نیا طوفان آنے کو تیار ہے۔ذرائع کے مطابق بجٹ میں پرتعیش اشیا پر عائد سیلز ٹیکس کو 25 فیصد سے بھی بڑھانے کی تجویز زیر غور ہے، جب کہ ان اشیا کی فہرست میں مزید مصنوعات کو شامل کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔پاکستان کی معاشی ٹیم اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ سازی کے حوالے سے ورچوئل بات چیت کا سلسلہ جاری ہے، جس میں ٹیکس وصولیوں میں اضافے اور مالی خسارے میں کمی کے لیے سخت تجاویز زیر غور آ رہی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹیکس نظام میں شفافیت لائی جائے، ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھایا جائے اور ٹیکس حکام کو اختیارات کے مؤثر استعمال کی اجازت دی جائے۔ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے ٹیکس نادہندگان کے خلاف سخت اقدامات کرنے اور پی او ایس (پوائنٹ آف سیل) پر ٹیکس چوری کی صورت میں جرمانہ 5 لاکھ سے بڑھا کر 50 لاکھ روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹیکس چوری پر جرمانے کے علاوہ فوجداری مقدمات درج کرنے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق آئندہ بجٹ میں سولر پینلز سمیت تمام شعبوں کو دی جانے والی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، جو ایک طرف توانائی کے متبادل ذرائع کو متاثر کرے گی اور دوسری جانب مہنگائی کا نیا بوجھ عوام پر ڈال سکتی ہے۔اسی طرح کھاد، زرعی اسپرے اور آلات پر بھی 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) عائد کرنے کی تجویز ہے جب کہ زرعی ان پٹس اور مشینری پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ بھی زیر غور ہے۔دریں اثناء آئی ایم ایف نے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے اور تنخواہوں اور پینشن میں اضافے پر مشروط رضامندی ظاہر کردی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ذرائع وزارت خزانہ نے بتایا کہ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ اگر حکومت تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس میں ریلیف دینا چاہتی ہے تو اس سے ہونیوالے ریونیو کے نقصان کو پورا کرنے کیلئے بڑے پنشنرز پر ٹیکس عائد کیا جائے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں تنخواہوں میں ٹیکس کم کرنے کے ساتھ ساتھ تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کی تجویز ہے اور اس پر بھی آئی ایم ایف نے مشروط رضا مندی ظاہر کی ہے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کو پاکستان کے دفاعی بجٹ سے بھی کوئی مسلہ نہیں ہے۔