عید کی تعطیلات کا آغاز ہوتے ہی لاہور کے لاری اڈوں پر پردیسیوں کا رش بڑھ گیا ہے، جو اپنے آبائی علاقوں کی طرف سفر کر رہے ہیں تاکہ عید اپنے خاندان کے ساتھ گزار سکیں۔
مختلف فیکٹریوں، بنگلوں اور دیگر نجی اداروں میں کام کرنے والے افراد اب اپنے گھروں کو جانے کی تیاری کر چکے ہیں۔تفصیلات کے مطابق لاہور سے مختلف شہروں کے لیے کرایے بھی مقرر کر دیے گئے ہیں۔ مثلاً لاہور سے چکوال کا کرایہ 1690 روپے، ٹوبہ کا کرایہ 1060 روپے، لاہور سے ظفروال اور نارووال کا کرایہ 690 روپے، سیالکوٹ کا کرایہ 740 روپے، لاہور سے جھنگ کا کرایہ 1250 روپے، گجرات کا کرایہ 590 روپے، لاہور سے فیصل آباد کا کرایہ 700 روپے، ملتان کا کرایہ 2 ہزار روپے، راجن پور کا کرایہ 3 ہزار روپے اور راولپنڈی کا کرایہ 1600 روپے مقرر کیا گیا ہے۔ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی کی ٹیمیں لاری اڈوں پر متحرک ہیں، تاکہ ٹرانسپورٹ کے انتظامات بہتر بنائے جا سکیں۔ ایل ڈبلیو ایم سی کی ٹیمیں سڑکوں کی صفائی کے عمل میں مصروف ہیں۔
علاوہ ازیں، لاہور کی ٹریفک پولیس نے اوورچارجنگ اور اوورلوڈنگ کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھا ہے۔ سی ٹی او لاہور ڈاکٹر اطہر وحید نے تمام ڈویژنل ایس پیز کو کریک ڈاؤن کی نگرانی کی ہدایت دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹرز کو اوورلوڈنگ کی صورت میں انسانی جانوں کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ٹرانسپورٹرز کو مختص کردہ کرایہ لینے کا پابند کیا جائے گا اور گاڑیوں میں کرایہ نامے کو نصب کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔لاری اڈے پر ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں، جن میں بابو صابو، نیازی چوک، ٹھوکر نیاز بیگ اور شاہدرہ چوک شامل ہیں، تاکہ کرایوں کے معاملات اور اوورلوڈنگ کو روکا جا سکے اور عوام کو بہتر سفری سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔