شہر کی اوپن مارکیٹ میں سرکاری نرخ نامے پر عملدرآمد نہ ہو سکا، جس کے باعث سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں مقررہ نرخوں سے کہیں زیادہ وصول کی جا رہی ہیں۔
مارکیٹ سروے کے مطابق متعدد اشیائے خورونوش سرکاری نرخوں کے بجائے زائد قیمتوں پر فروخت ہو رہی ہیں، جس سے شہری مہنگی سبزیاں اور پھل خریدنے پر مجبور ہیں۔سبزیوں میں پیاز کی سرکاری قیمت 95 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم اوپن مارکیٹ میں یہ 150 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔ ٹماٹر 210 روپے کے بجائے 260 روپے، چائنیز لہسن 235 روپے کے مقابلے میں 320 روپے، جبکہ ادرک 320 روپے کی بجائے 400 روپے فی کلو فروخت کی جا رہی ہے۔اسی طرح دیسی لیموں کی سرکاری قیمت 150 روپے فی کلو ہونے کے باوجود اوپن مارکیٹ میں 600 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔ شلجم 50 روپے کے بجائے 70 سے 80 روپے، بھنڈی 90 روپے کے مقابلے میں 150 روپے، پالک 25 روپے کے بجائے 40 سے 60 روپے، جبکہ دیسی ٹینڈے 90 روپے کی بجائے 150 روپے فی کلو فروخت کیے جا رہے ہیں۔
پھلوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں فرق دیکھنے میں آیا۔ سندھڑی آم (اول) کی سرکاری قیمت 225 روپے فی کلو ہے، جبکہ مارکیٹ میں یہ 350 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ انور رٹول آم 305 روپے کے بجائے 400 روپے فی کلو، سفید سیب 250 روپے کے مقابلے میں 280 روپے فی کلو، جبکہ کیلے 215 روپے فی درجن کے بجائے 250 روپے فی درجن فروخت کیے جا رہے ہیں۔علاوہ ازیں الائچی کی سرکاری قیمت 605 روپے فی کلو مقرر ہے، لیکن اوپن مارکیٹ میں اس کی قیمت بڑھ کر 780 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق سرکاری نرخ نامے پر مؤثر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث شہریوں کو روزمرہ استعمال کی اشیاء مہنگے داموں خریدنا پڑ رہی ہیں۔