عید کے بعد پردیسیوں کی واپسی کا سلسلہ شروع، ٹرانسپورٹ ہبز پر رش

عید کے بعد پردیسیوں کی واپسی کا سلسلہ شروع، ٹرانسپورٹ ہبز پر رش

ویب ڈیسک: عید الفطر کے موقع پر اپنے پیاروں کے ساتھ وقت گزارنے کے بعد پردیسی مزدوروں اور ملازمین کی واپسی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جس کے باعث بس اڈوں، ریلوے سٹیشنز اور لاری اڈوں پر مسافروں کا ہجوم دیکھنے میں آیا۔

واقعے کی تفصیلات:
لاہور، کراچی اور دیگر بڑے شہروں کے ٹرانسپورٹ ہبز پر اداس چہروں والے مسافر واپسی کے لیے پہنچ رہے ہیں۔
مسافروں کا کہنا ہے کہ "عید کی چھٹیاں جلد ہی ختم ہو گئیں"، اور اب انہیں روزی کی تلاش میں دوبارہ کام پر جانا ہے۔
حکومت کی جانب سے 31 مارچ سے 2 اپریل تک عید کی چھٹیاں دی گئی تھیں، جبکہ سرکاری ملازمین نے ہفتہ و اتوار ملا کر 5 دن کی چھٹیاں منائیں۔
ٹرانسپورٹ پر دباؤ:
لاہور ریلوے سٹیشن اور لاری اڈوں پر مسافروں کی بڑی تعداد موجود ہے۔
بسوں اور ٹرینوں میں سیٹوں کے لیے مقابلہ دیکھنے میں آیا۔
کچھ مسافروں نے شکایت کی کہ ٹکٹوں کی قلت اور اونچے کرایوں کے باعث سفر کرنا مشکل ہو رہا ہے۔
عید کی یادیں اور جدائی کا غم:
ایک مسافر نے کہا: "عید پر گھر والوں کے ساتھ خوب مزہ آیا، لیکن اب دل چاہتا ہے کہ اور دن رک جائیں۔"
دوسرے نے کہا: "پیسہ کمانا ضروری ہے، ورنہ کون اپنوں سے دور رہنا پسند کرے گا؟"
حکومتی ہدایات اور دفاتر کی بحالی:
3 اپریل (بدھ) سے سرکاری و نجی دفاتر معمول کے مطابق کھل چکے ہیں۔
تاہم، کچھ اداروں میں حاضری کم ہے، کیونکہ کچھ لوگ ابھی واپسی کے سفر میں ہیں۔
عید کے بعد خوشی اور غم کے ملے جلے جذبات کے ساتھ لوگ اپنی روزمرہ کی زندگی میں واپس لوٹ رہے ہیں، جبکہ ٹرانسپورٹ سسٹم پر عید کے موقع پر مسافروں کے بڑے ہجوم کا دباؤ جاری ہے۔