پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی سیکریٹری انفارمیشن شیخ وقاص اکرم نے کہا ہے کہ ان کی جماعت کا مینڈیٹ چوری کیا گیا اور اب ان کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ ان کے کئی ساتھی دو سال سے جیلوں میں ہیں اور ان کا مینڈیٹ چوری کیا گیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے ساتھیوں کے کاروبار بھی بند کر دیے گئے ہیں۔شیخ وقاص اکرم نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ عمران خان کی گرفتاری پر عوام نے احتجاج کیا اور سابق چیف جسٹس آف پاکستان نے انہیں نشان چھین لیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا (کے پی) میں سینیٹ کے انتخابات پر کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی ہے اور قوم کبھی بھی ان اقدامات کو معاف نہیں کرے گی۔رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ عدالتی احکامات کے باوجود اڈیالہ جیل میں عمل درآمد نہیں ہو رہا اور عمران خان کے مقدمات بھی عدالتوں میں نہیں لگ رہے۔ انہوں نے کہا کہ باقی پاکستان ان کے لیے "کنٹینرستان" بن چکا ہے اور وہ اٹک پل کے اس پار نہیں جا سکتے۔شیخ وقاص اکرم نے مزید کہا کہ پییکا آرڈیننس کے بعد نہ صرف ان کے لیے بلکہ میڈیا کے لیے بھی مسائل کا سامنا ہے، ان کے کارکنان کو اٹھایا جا رہا ہے اور طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک سوشل میڈیا کے گرفتار کارکنوں کو عدالتوں میں پیش نہیں کیا گیا اور ملک میں طاقت کا ننگا ناچ جاری ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدالتی فیصلوں کے باوجود عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور عید کے بعد وہ توہین عدالت کی درخواست دائر کریں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر عدالت اپنے فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کروا سکتی تو اس کا بند کیا جانا چاہیے۔شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ قوم سوال کر رہی ہے کہ اگر ایک معمولی افسر عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کرا سکتا تو ایسے افسران کو عبرت کا نشان بنانا چاہیے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ اب عمران خان کی بچوں سے بات کروا دی جائے گی اور کتابیں بھی فراہم کی جائیں گی۔انہوں نے آخر میں کہا کہ نومبر کے بعد سے 5 ہزار کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے اور اگر ساتھ دینے والے حکومت سے ہاتھ اٹھا لیں تو کل انہیں بھی مشکلات کا سامنا ہو گا۔