پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ترجمان شیخ وقاص اکرم نے 11 جون کو ایک اہم پریس کانفرنس میں وفاقی بجٹ 2025-26 پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ:
کسانوں کے متعلق بجٹ پر تحفظات:
"کسانوں کے لیے اس بجٹ میں کچھ نہیں رکھا گیا" — یہ بجٹ کسان دشمن ہے۔زرعی شعبہ تباہی کے دہانے پر ہے، کپاس کی پیداوار میں 31 فیصد اور گندم کی پیداوار میں 13 فیصد کمی واقع ہوئی۔کپاس کی پیداوار 30 ملین گانٹھوں سے کم ہو کر 10 ملین گانٹھیں رہ گئی ہے۔
اعداد و شمار اور معاشی نقصانات:
کسانوں کو رواں سال 2200 ارب روپے کا نقصان ہوا۔لیبر فورس میں 37 فیصد حصہ رکھنے والے کسان بدترین حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔غذائی اجناس کی قلت بڑھ رہی ہے، سوال اٹھایا کہ یہ قلت کس طرح زرمبادلہ خرچ کرکے پوری کی جائے گی؟
حکومت پر الزامات:
حکومت کی پالیسیز کسان مخالف ہیں۔ٹریکٹر اور ٹیوب ویل کی قیمتوں میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے۔حکومت نے کسانوں کو دیے جانے والے سبسڈی والے سولر پینلز پر بھی ڈیوٹی لگا دی ہے۔
سیاسی پس منظر:
8 فروری 2024 کے انتخابات میں کسانوں نے بڑی تعداد میں تحریک انصاف کو ووٹ دیا۔اب انہی کسانوں کو حکومت نے یکسر نظرانداز کر دیا ہے۔