امریکا اور ایران کے ایک دوسرے پر ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ کی خلاف ورزی کے الزامات

امریکہ ایران پر حملے کر کے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر 5 کی خلاف ورزی کر رہا ہے،ایران ، ٹرمپ نے اسے احمقانہ حملہ قرار دیا
واشنگٹن، تہران (آن لائن)امریکا اور ایران نے ایک دوسرے پر ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ کی خلاف ورزی کے الزامات لگائے ہیں۔معاملہ اس وقت شروع ہوا جب اقوام متحدہ نے آبنائے ہُرمُز میں پھنسے ملاحوں کو نکالنے کا آپریشن امریکی فوج کی نگرانی میں شروع کیا۔ پہلے مرحلے میں 1100 ملاحوں اور 27 بحری جہازوں کو آبنائے ہُرمُز میں عمان کے ساحل کی طرف سے نکال لیا۔یہ جہاز چونکہ ایران کی اجازت کے بغیر نکالے جارہے تھے، اس لیے خلیج عمان سے گزرنے والے ایک جہاز پر پروجکیٹائل فائر کیے جانے کا ایک واقعہ گذشتہ روز پیش آیا، جس میں جہاز کو نقصان پہنچا۔ امریکا نے الزام لگایا کہ یہ حملہ چار ڈرونز کے ذریعے ایران نے کیا تھا۔ اس الزام کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے احمقانہ حملہ قرار دیا اور ایک صحافی کے سوال پر کہا کہ آپ کو امریکی ردعمل کا جلد پتہ چل جائے گا۔اس بیان کے کچھ دیر بعد امریکا نے ایران کے ساحلی علاقوں پر حملہ کیا۔ امریکی فوجی سنٹرل کمانڈ سینٹکام کے مطابق امریکی لڑاکا طیاروں نے ایران کے میزائل اور ڈرون ذخیروں پر فضائی حملے کیے۔