حملے مفاہمتی یادداشت کی کھلی خلاف ورزی، منہ توڑ جواب ملے گا، آبنائے ہرمز سے جہازوں کی محفوظ آمدورفت کی ذمہ داری ایران کے سپرد ہے:ایران

ٹرمپ ایران پر پھر حملہ کر دیا  ساحلی علاقوں میں دھماکے 
سرک ، بندر عباس ، کونارک اور چابہار کے قریبدھماکوں کے بعد بجلی منقطع ،  8 دھماکے ،  ایران کے پاس دو راستے ہیں، یا تو وہ بحری راستہ کھلا رکھے اور جہازوں پر حملے بند کر دے ورنہمسلسل امریکی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا:جے ڈی وینس
لاہور( مانیٹرنگ ڈیسک )ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں جبکہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف نئی کارروائیوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی کوشش کی تو امریکہ فوجی کارروائی کرے گا۔ ایران کے پاس دو راستے ہیں، یا تو وہ اس معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے بحری راستہ کھلا رکھے اور جہازوں پر حملے بند کر دے، یا پھر اسے گزشتہ رات کی طرح مسلسل امریکی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ایران اس اہم بحری گزرگاہ کو کھول نہیں دیتا اور جہازوں پر حملے بند نہیں کر دیتا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق سرک اور بندر عباس میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ کونارک اور چابہار کے قریب بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ان علاقوں میں فضائی دفاعی نظام حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔امریکہ کے حملے مفاہمتی یادداشت کی کھلی خلاف ورزی ہیں، منہ توڑ جواب ملے گا۔مفاہمتی یادداشت کی پانچویں شق میں آبنائے ہرمز سے جہازوں کی محفوظ آمدورفت کی ذمہ داری ایران کے سپرد کی گئی۔منجمد اثاثوں کی واپسی اور حملوں میں ہونے والے نقصانات کا ازالہ بھی معاہدے میں شامل ہے، اسماعیل بقائی ایران نے مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے یکطرفہ فوجی کارروائیوں اور حملوں کے ذریعے معاہدے کو نقصان پہنچایا۔غیرملکی خبر ایجنسی کے مطابق چابہار میں دھماکوں کے بعد بجلی منقطع ہوگئی جبکہ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے 'آئی آر آئی بی' (IRIB) کا کہنا ہے کہ جنوبی ساحلی شہر میں 8 دھماکے سنے گئے جس کے نتیجے میں فضائی دفاعی نظام فعال ہو گیا۔امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ حملے آبنائے ہرمز میں نیویگیشن کی آزادی کو خطرے میں ڈالنے والی ایرانی صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے لیے کیے گئے۔ امریکی حکام کے مطابق کارروائی میں فضائی دفاعی نظام، ساحلی ریڈار، اینٹی شپ میزائل تنصیبات اور دیگر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا، بین الاقوامی اہمیت کی حامل آبی گزرگاہ میں آزادانہ طور پر سفر کرنے والے تجارتی جہازوں اور ان کے شہری عملے کے خلاف حالیہ بلاجواز جارحیت پر ایران کو جواب دہ ٹھہرا رہا ہے۔دوسری جانب ایران نے امریکی کارروائی کو جارحیت قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے جبکہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔