کئی علاقوں میں کئی فٹ پانی ،پٹھان کالونی میں چار روز سے بجلی ،جلال پور پیروالہ میں مزید بستیاں زیر آب
لاہور ،جلال پورپیروالہ (مانیٹرنگ ڈیسک )شیخوپورہ کی تحصیل فیروزوالا اور دریائے راوی کنارے واقع متعدد دیہات میں سیلابی صورتحال مزید سنگین ہوگئی، برساتی نالے کا بند ٹوٹنے سے پٹھان کالونی کا مین لاہور جی ٹی روڈ سے زمینی رابطہ منقطع ، سیکڑوں خاندان محصور ، متاثرہ علاقوں سے لوگوں کی محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی جاری ہے،دوسری طرف ملتان کی تحصیل جلال پور پیروالہ میں دریائے چناب میں سیلاب سے مزید کئی بستیاں پانی میں گھر گئیں جبکہ سیلابی پانی میں ڈوب کر 55 سالہ شخص جاں بحق ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق سیلاب زدہ علاقوں رچنا ٹائون، رانا ٹائون، پٹھان کالونی، کوٹ عبدالمالک، کالا شاہ کاکو کے نواحی علاقوں مراد پور، جامکے چیمہ میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہے۔مقامی افراد کے مطابق حفاظتی بند ٹوٹنے یا برساتی پانی کے اوور فلو کے باعث مختلف آبادیوں میں پانی داخل ہوا اورمتعدد دیہات زیر آب آگئے۔ کئی خاندانوں نے خواتین، بچوں اور بزرگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا جبکہ بعض گھروں میں مرد سامان کی حفاظت کے لیے موجود ہیں۔ پٹھان کالونی کے رہائشی محمد ریاض نے بتایا کہ علاقے میں گزشتہ چار روز سے بجلی بند ، پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔متاثرہ خاتون رشیداں بی بی نے بتایا کہ ان کے گھر کا بیشتر سامان پانی میں تباہ ہو گیا ، زندگی بھر کی جمع پونجی ضائع ہو چکی اور انہیں سرکاری امداد نظر نہیں آ رہی۔ رچنا ٹائون کے رہائشی محمد سلیم کے مطابق کئی روز گزرنے کے باوجود پانی کی سطح کم نہیں ہو رہی، معمولات زندگی مکمل طور پر مفلوج ہیں اور لوگوں کو خوراک اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے۔دریں اثناء متاثرہ علاقوں میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے شعبہ خدمت خلق، الخدمت فائونڈیشن اور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں امدادی سرگرمیوں ،متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں۔متاثرہ علاقہ مکینوں کے مطابق اب تک کوئی اعلیٰ حکومتی یا انتظامی نمائندہ متاثرہ آبادیوں میں نہیں پہنچا، جبکہ امدادی سرگرمیوں کا زیادہ تر بوجھ فلاحی تنظیموں اور ریسکیو اداروں پر ہے۔ادھر دریائے چناب میں سیلاب سے ملتان کی تحصیل جلال پور پیروالا میں بھی مزید کئی بستیاں پانی میں گھر گئیں اور سیلابی پانی ہائی سکول لاڑ جنوبی میں بھی داخل ہونے سے اس کی دیوار گرگئی، نچلے درجے کے سیلاب کے باعث وچھہ سندیلہ،نڑول، بیٹ کیچ جنوبی،بیٹ مغل کی کئی بستیوں کیزمینی راستے منقطع ہوگئے ہیں،اہل علاقہ نے نقل مکانی شروع کردی جبکہ بیٹ مغل میں سیلابی پانی میں ڈوب کر 55 سالہ رب نواز نامی شخص جاں بحق ہو گیا۔سیلاب سے سینکڑوں ایکڑ پر تیار فصلیں بھی شدید متاثر ہوگئی ہیں۔ ادھر محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں 29 جولائی سے بارشوں کے نئے طاقتور سلسلے کے داخل ہونے کی پیشگوئی کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی۔محکمہ موسمیات کے مطابق یکم اگست سے مغربی ہوائوں کا ایک مضبوط سلسلہ ملک کے بیشتر حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ اسلام آباد، راولپنڈی، مری، گلیات اور پنجاب کے بیشتر اضلاع میں آج 29 جولائی سے 4 اگست تک ،پختونخوا،آزادجموں وکشمیر،گلگت بلتستان میں 5اگست تک تیز ہوائوں اور گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔ خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں 29 جولائی سے 5 اگست تک تیز ہوائوں، گرج چمک اور بعض مقامات پر شدید بارش کا امکان ہے۔بلوچستان ،سندھ میں 31 جولائی کی شام اور رات سے 3 اگست تک بعض مقامات پر بارش کا امکان ہے، جبکہ سندھ کے مختلف اضلاع میں 31 جولائی کی شام سے 2 اگست تک گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، لاہور، ملتان اور فیصل آباد میں 30 جولائی سے 4 اگست تک اربن فلڈنگ،پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پنجاب کے مطابق دریائے سندھ میں کالاباغ اور تونسہ کے مقام پر اب بھی نچلے درجے کا سیلاب موجود ہے،دریائے چناب میں سیلابی صورتحال میں مسلسل بہتری آ رہی ،دریائے ستلج اور جہلم میں بھی پانی کا بہا ئومعمول کے مطابق ہے تاہم دریائے راوی میں بلوکی اور سدھنائی کے مقام پر نچلے درجے ،وزیرآباد نالہ پلکھو میں اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔ ادھر پنجاب کے متعدد اضلاع میں بارشوں کی پیش گوئی کے پیش نظر سیکرٹری ہائوسنگ پنجاب نورالامین مینگل نے تمام واسا ایجنسیوں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی ۔ انہوں نے بارشوں کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری اور فوری رسپانس یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔