گڈو اور سکھر بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب برقرار، علاقوںکا زمینی رابطہ منقطع ، فصلیں ڈوب گئیں، ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری
دریائے ستلج میں سیلاب میں کمی کے باوجود بہاولپور کی درجنوں بستیوں میں کئی فٹ پانی موجود، لوگوں کو کشتیوں کے ذریعے کھانے کی فراہمی
ایبٹ آباد اور دیگر علاقوں میں طوفانی بارش سے لینڈ سلائیڈنگ، چترال میں سیلابی صورتحال، شاہراہیں مختلف مقامات پر بند ہوگئیں
سکھر‘بہاولپور(آئی این پی )دریائے سندھ میں گڈو اور سکھر بیراج کے مقام پر اونچے درجے کی سیلابی کیفیت برقرار ہے جبکہ کوٹری بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے، سندھ میں دریا کے کنارے اور کچے میں آباد دیہات، بستیاں اور فصلیں پانی کی نذر ہورہی ہیں۔فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن (ایف ایف ڈی ) کے مطابق گڈو اور سکھر بیراج پر آئندہ 36 گھنٹے تک اونچے درجے کی سیلابی صورتحال رہے، ادھر کوٹری بیراج میں اب پانی کی سطح درمیانے درجے کے سیلاب تک پہنچ گئی ہے کیونکہ پانی کا بہا ئونچلی سطح کی طرف بڑھ رہا ہے۔ادھر دریائے ستلج کے سیلاب میں کمی کے بعد بہاولپور کی دریائی تحصیلوں میں پانی کی سطح کم ہونے لگی مگر اب بھی کئی کئی فٹ پانی موجود ہے۔اوچ شریف، تحصیل خیرپور ٹامیوالی، تحصیل صدر بہاولپور میں درجنوں بستیاں بدستور زیر آب ہیں، قادر آباد کے علاقے میں سرکاری اسکول کی عمارت میں 5 فٹ پانی بھرا ہوا ہے، متاثرہ علاقوں سے سیکڑوں افراد ریلیف کیمپ منتقل کردئیے گئے‘دریں اثناء دریائے ستلج کے سیلاب میں کمی کے بعد بہاولپور کی دریائی تحصیلوں میں پانی کی سطح کم ہونے لگی مگر اب بھی بعض مقامات پر کئی کئی فٹ پانی موجود ہے۔دریائے ستلج کے سیلاب میں کمی آنے کے باوجود اوچ شریف، تحصیل خیرپورٹامیوالی، تحصیل صدربہاولپور میں درجنوں بستیاں بستور زیرآب ہیں ‘علاوہ ازیںمون سون بارشوں کے 11 ویں سپیل کے آغاز پرملک کے کئی علاقوں میں طوفانی بارشوں سے جل تھل ایک کردیا، ایبٹ آباد میں طوفانی بارش سے توحید آباد، چھانگا گلی، ایوبیہ سمیت متعدد سڑکوں پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی، ہیوی مشینری کی مدد سے سڑکوں کی بحالی کا کام جاری رہا، چترال میں شدید بارشوں سے سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی، متعدد شاہراہیں مختلف مقامات پر بند ہوگئیں،انتظامیہ ملبہ ہٹانے میں مصروف رہی۔ کراچی میں بھی بادلوں کی انٹری ہوگئی، شارع فیصل، گلشن اقبال، ڈرگ روڈ پر بوندا باندی ہوئی، 19 ستمبر تک پنجاب کے بیشتر اضلاع میں شدید بارشوں کا امکان ہے۔