وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت ٹرانسفارمیشن آف ایگریکلچر اور واٹر مینجمنٹ سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس میں پانی کے تحفظ، زیرِ زمین پانی کی مؤثر مینجمنٹ اور زرعی شعبے میں آبی وسائل کے بہتر استعمال کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ نے پنجاب میں پانی کی بچت اور گراؤنڈ واٹر مینجمنٹ سے متعلق رپورٹ کا تفصیلی جائزہ لیا اور کہا کہ "سمجھدار قوم وہی ہوتی ہے جو پانی کے ایک ایک قطرے کو محفوظ بناتی ہے۔" انہوں نے بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے لیے جدید آن گراؤنڈ واٹر باڈیز کے جامع منصوبے کی بھی ہدایت کی۔اجلاس میں پوٹھوہار کے بارانی علاقوں میں آئندہ تین برسوں کے دوران مزید 800 منی ڈیمز تعمیر کرنے کی منظوری دی گئی، جن سے 32 ہزار ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہوگی۔ حکام کے مطابق اب تک 110 منی ڈیمز مکمل کیے جا چکے ہیں، جبکہ اٹک، تلہ گنگ، گوجر خان اور راولپنڈی میں نئے منی ڈیمز پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔وزیراعلیٰ نے زیرِ زمین پانی کے مؤثر انتظام کے لیے قانونی فریم ورک کو مزید فعال بنانے، پانی کی نگرانی کے لیے خصوصی عملہ تعینات کرنے اور محکمہ زراعت، آبپاشی، ہاؤسنگ اور لوکل گورنمنٹ کو مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرنے کی ہدایت دی۔
زرعی شعبے میں پانی کی بچت کے لیے رواں مالی سال کے دوران کسانوں کو 50 فیصد سبسڈی پر 1,000 نئے لیزر لینڈ لیولرز فراہم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبے میں 2,600 واٹر کورسز کی پختگی مکمل ہو چکی ہے، جبکہ آئندہ تین برسوں میں مزید 4,500 واٹر کورسز کی اصلاح اور پختگی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ لاہور، گوجرانوالہ اور گجرات ڈویژن میں 100 ریچارج ویلز فعال ہو چکے ہیں جبکہ مزید 300 ریچارج ویلز تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔