دو چینی کمپنیوں کی پاکستان سے گدھے کے گوشت کی برآمد کی درخواست

دو چینی کمپنیوں کی پاکستان سے گدھے کے گوشت کی برآمد کی درخواست

ویب ڈیسک: پاکستان سے گدھے کے گوشت کی برآمد کے لیے دو چینی کمپنیوں نے درخواست دے دی ہے۔

ذرائع کے مطابق دونوں کمپنیوں نے سلاٹر ہاؤس قائم کرنے اور برآمد کے لائسنس حاصل کرنے کے لیے باضابطہ طور پر درخواستیں جمع کرا دی ہیں۔

وزارت فوڈ سکیورٹی کی جانب سے چھان بین جاری
حکام وزارت فوڈ سکیورٹی کا کہنا ہے کہ چینی کمپنیوں کی درخواستوں پر مکمل چھان بین جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام ریگولیشنز مکمل ہونے کے بعد ہی گدھے کا گوشت اور ہڈیاں چین برآمد کی جا سکیں گی۔

گوادر سے برآمد اور زرمبادلہ کی توقع
حکام کے مطابق چین کو گدھے کا گوشت اور ہڈیاں بلوچستان کے راستے گوادر پورٹ سے برآمد کی جائیں گی، جس سے پاکستان کو خاطر خواہ زرمبادلہ حاصل ہونے کی توقع ہے۔

گوادر کے علاوہ کسی مقام پر پروسیسنگ کی اجازت نہیں
وزارت فوڈ سکیورٹی نے واضح کیا کہ چینی کمپنی کو پابند کیا گیا ہے کہ گوادر کے علاوہ کسی اور جگہ گوشت تیار نہیں ہوگا، تاکہ یہ خدشہ نہ رہے کہ گدھے کا گوشت مقامی مارکیٹ میں فروخت ہو سکتا ہے۔

اسلام آباد میں غیرقانونی گوشت کی تیاری کا انکشاف
حکام نے مزید بتایا کہ اسلام آباد میں بھی غیر قانونی طور پر گدھے کا گوشت تیار کیا جا رہا تھا، جہاں ایک غیر ملکی باشندہ لائسنس کے بغیر یہ کام کر رہا تھا۔