ہے کوئی سمجھنے والا ؟

ڈاکٹر جاوید اقبال

اسے جب تک مارفین کا انجکشن نہ لگ جائے ، وہ درد کی شدت کی وجہ سے سو نہیں سکتی ہے۔ڈاکٹروں نے تھارائیڈ اینڈ سٹیج کینسر تشخیص کیا یے جو جسم کی ہڈیوں میں سرایت کر کے کولہے کی ہڈی کو کھا گیا ہے۔اس سے بیٹھا نہیں جاتا ، دن کے چوبیس گھنٹے لیٹنا ہی پڑتا ہے۔
کینسر کی ٹریمنٹ میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی گئی ہے ، پتہ یہ بھی لگا ہے کہ اب تو پانچ لاکھ روپے کا ایک ٹیکا کسی پرائیویٹ اسپتال سے لگتا ہے۔
معلوم یہ بھی ہوا کہ شوھر بھی کینسر سے لڑ رہا ہے۔اس کا ایک بازو کاٹنا پڑا ہے اور مصنوعی بازو ترکی سے منگوانے کا آرڈر دیا جا چکا ہے۔
میں نے اپنے ڈاکٹر دوست سے کہا یار کس کی کہانی سنا رہے ہو ؟کہنے لگا۔یار تمہیں یاد ہے ناں میں اکثر اپنے کزن بارے جو اب پولیس میں اعلی عہدے پر فائز ہے اور جس کی اربوں کی جائیداد بشمول دو سو آسٹریلین گائے کا فارم ، متعدد پیٹرول پمپ ، لاتعداد پلاٹ ، بینک بیلنس ، بڑی بڑی گاڑیوں کی تفصیل آپ کو بتاتا تھا۔یہ وہی موصوف ہیں جو پچپن سال کی عمر میں کینسر سے نبرد آزما ہے۔میں نے کانوں کو ہاتھ لگایا۔
میں نے دوست سے کہا۔یار اپنے کزن سے کہو ، لوٹے ہوئے اربوں روپوں میں سے کچھ کروڑ خیرات کر دے ، شاید اس پر رحم کی بارش ہو جائے۔میرے ڈاکٹر دوست نے ہنستے ہوئے کہا کہ تم بھی کمال کرتے ہو ، محنت سے کماء گء رشوت دوسروں کے نام کرنے کا مشورہ دے رہے ہو۔میرے دوست نے مجھ سے پوچھا کہ یار سبھی پولیس والے اور اعلی سرکاری آفسران ایسے ہی ہوتے ہیں کیا ؟میں نے کہا ، یار اس دیس میں اچھے لوگ بھی بستے ہیں ، جن کے طفیل ہم عذاب سے بچے ہوئے ہیں۔میرے ڈاکٹر دوست نے جھٹ سے کہا۔یار جن افسران کی ایمان داری کے قصے تم بتاتے نہیں تھکتے ہو۔ان کی تنخواہ تو لاکھ ، ڈیڈھ لاکھ ، دو لاکھ ہوتی ہے مگر ان کے پاس آء فون کے جدید ماڈل کہاں سے آ جاتے ہیں ؟ان کے کپڑے ، جوتے ، پرفیوم ، ہر چوتھے دن پنج ستارہ ہوٹل میں کھانے ، بیرون ملک ان کے بچوں کی بھاری بھرکم فیسیں ، جائیدادیں ، ان کے شاہانہ خرچے کون پورے کرتا ہے ؟میرے ڈاکٹر دوست نے گلہ کرتے ہوئے کہا کہ یار سارے چھاپے اسپتالوں میں دن رات کام کرنے والے ڈاکٹروں اور طبی عملے پر ہی کیوں مارے جاتے ہیں ؟کیا کبھی سرکار کے نوکروں کے کھاتے کھولنے کے احکامات بھی کسی نے جاری کئے ؟کیا کبھی ان سول سرونٹس نے سائلوں کے ساتھ انسانوں جیسا سلوک کیا ؟
میرے ڈاکٹر دوست نے میری کہی ہوئی بات دھرائی کہ تم اپنے کالموں میں بار بار لکھتے ہو کہ اللہ پاک ریا کاری سے پاک ہماری ٹوٹی پھوٹی نمازیں ، روزے ، حج ، زکوۃ قبول فرما لے گا لیکن بندوں کے ساتھ روا رکھے گئی زیادتیاں ، حق تلفیاں معاف نہیں کرے گا یعنی جنت ، دوزخ کا فیصلہ حقوق العباد پر ہی ہو گا اور اللہ سے دعا بھی یہی مانگنی چاہیئے کہ جانے انجانے میں اگر غلطی سرزد ہو جائے تو اس کا حساب اس فانی دنیا میں ہی اللہ چکتا کر دے تو اس کا احسان عظیم ہو گا کیونکہ آگے کی منزل بڑی کٹھن ہے اور کچھ لوگ زمین پر چاہے قبول ہوں نہ ہوں ، اللہ کے ہاں بڑے مقبول ہوتے ہیں ، ان کے دل کی سرگوشی کو بھی اللہ سن لیتا ہے تو پھر یہ مٹی کے پتلے حیوان کیوں بن جاتے ہیں ؟

ان کو کوئی جا کر بتاتا کیوں نہیں ہے ؟لوگوں سے چھینا گیا پیسہ جیسے آتا ہے ، ویسے ہی نکل جاتا ہے ، اللہ پاک مخلوق کے ساتھ زیادتی کرنے والے کو برداشت نہیں کرتا ہے ، کئی  بار دیکھنے میں یہ بات آئی۔ہمارے ایک مشترکہ دوست نے بتایا کہ کیسے کرونا کے زمانے میں ڈاکٹر صاحب نے ایک مریض کو کسی بات پر خوب لتاڑا ، وہ غریب مریض اپنا سا منہ لے کر رہ گیا اور چپ کر کے چلا گیا اور اگلے ہی دن خیراتی اسپتال کے ایڈمنسٹریٹر نے ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ کرونا میں کاروباری افراد کی آمدن کم ہونے سے ادارے کو چلانے والے مالکان کے پاس پیسے نہیں ہیں لہذا آپ کل سے اسپتال نہ آئیں۔ہمارے ڈاکٹر دوست کے بقول اسے مریض کی آہ لگ گئی۔خاکسار نے کہا کہ یار کاش تیری جیسی اعلی سوچ سبھی رکھیں۔طاقت کے نشے میں فرعون کو کاپی نہ کریں۔وقت سدا ایک جیسا نہیں رہتا اور سب نے چلے ہی جانا ہے اور ہمیں تو اپنے میڈیسن اور آء سی یو کے پروفیسر کے مشاہدات ازبر ہیں کہ اللہ معاف کرے۔لوگوں کے ساتھ ظلم کرنے والوں کو عجب بیماریاں لاحق ہوئیں اور جن کا علاج پوری دنیا میں ممکن نہ تھا اور وہ کیسے سسک سسک کر اس جہاں سے کوچ کر گئے اور دوسری طرف اپنے پروفیسر نور احمد نور آف ملتان (مرحوم) نے قبر کشائی میں اللہ کی مان کر انسانوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنے والوں کے جسم اپنی آنکھوں سے دیکھے جو کئی سالوں بعد بھی تروتازہ تھے۔اب ہم میں ہے کوئی  اس بات کو سمجھنے والا ؟کہ لوگوں کے دل دکھا کر کوء جنت کی خوشبو بھی سونگھ سکے گا۔
اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔آمین