کوئی پوچھنے والا نہیں ہے؟

ڈاکٹر جاوید ملک

ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں پرنٹ میڈیا آخری سانسیں لے رہا ہے۔قومی اخبارات میں چوٹی کے روزنامچوں نے سنڈے میگزین چھاپنا بند کر دئیے ہیں۔آجکل اخبارات بمعہ کالم واٹس ایپ پر ہی پڑھے جاتے ہیں۔قارئین کی بڑی کم تعداد رہ گئی ہے جنھیں صبح سویرے ناشتے کی  میز پر اخبار پڑھنے کا شوق ہے۔نوجوان نسل کا اخبار بینی سے دور دور تک واسطہ نہیں ہے۔یوتھ کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہے کہ وہ اخبارات کا مطالعہ کر سکیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ سوشل میڈیا خبروں کا جدید اور تیز ترین ذریعہ ہی ہے لیکن اسی سوشل میڈیا کے تحفے فیک نیوز یعنی جھوٹی خبروں نے سچ ، اعتبار اور اعتماد کا جنازہ نکال دیا ہے۔
شکر ہے۔اخبارات ایسی خرافات سے ابھی تک بچے ہوئے ہیں۔اخبارات کے زوال کی اس کہانی میں ہماری کتب بینی سے عدم دلچسپی اور پالیسی سازوں کا پرنٹ میڈیا کو سپورٹ نہ کرنا شامل ہے۔حکومتی عہدہ دار بھی صرف ٹی وی اور سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیوز اور خبروں پر فوری ایکشن لیتے نظر آتے ہیں حتی کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھے گء تحریروں کو بھی کم ہی لفٹ کراتے ہیں۔
ایک زمانہ تھا۔جب میاں شہباز شریف وزیراعلی پنجاب تھے۔صبح سویرے ان کی ٹیبل پر اخبارات میں چھپنے والی خبروں اور کالموں کے تراشے رکھے جاتے تھے۔جناب شہباز شریف فوری ایکشن لیتے تھے۔خاکسار کے ایک دوست نے اسی بات کا گلہ کیا کہ تحریر جو ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔اسے اب دفتر داخل کرنے میں دیر نہیں لگائی جا رہی ہے۔بیچارے لکھنے والوں نے لکھ لکھ کر قلم توڑ دئیے مگر کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی ہے۔
10 جون کو قومی اسمبلی میں وزیر خزانہ نے وفاقی حکومت کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سولر پینلز پر 18 % ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔
خیر سے بجٹ پاس ہونا ابھی باقی ہے کہ دکاندار حضرات نے سولر پینلز سمیت الیکٹرانکس آلات ، فریج ، اے ، سی ، واشنگ مشینوں ، ایل سی ڈیز ، پنکھوں الغرض ہر شے بشمول اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو خود سے ہی بڑھا لیا ہے۔ما شا ء￿  اللہ!
تاجر حضرات یہ اچھا کام پچھلے 70 سالوں سے کرتے آ رہے ہیں۔کہنے کو تو ہم سے بڑا اسلام کا ٹھیکیدار کوء نہیں ہے۔ہمارا دعوی یہ بھی ہے کہ ہم سے زیادہ سچا عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کون ہے ؟حال یہ ہے کہ ہم نبی آخر الزماں پیارے کریم مدنی آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک فرمان عالیشان پر بھی عمل نہیں کرتے ہیں۔کاش کہ ہمارے تاجر حضرات جو کم قیمت پر ذخیرہ اندوزی کی گئی چیزوں کو زیادہ قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان احادیث کو ہی پڑھ لیتے۔
حضرت معقل بن یسار رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ " جو شخص مسلمانوں کے بازار کے نرخ میں اس لئے دخل دے کہ اسے گراں کر دے تو اللہ تعالٰی پر واجب ہو جاتا ہے کہ قیامت کے دن اسے دھکتی ہوء آگ میں ڈال دے(سنن ابوداؤد)
امام بخاری رح نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی بیان فرمایا ہے کہ آپ نے’’ نجش " یعنی اشیائے صرف کو مہنگے داموں فروخت کرنے کی منصوبہ بندی کرنے سے بھی منع فرمایا ہے(صحیح البخاری)
دوسری طرف سرور کونین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سچے اور ایمان دار تاجروں کو روز محشر انبیاء￿  ، صدیقین اور شہداء￿  کا ساتھ نصیب ہونے کی نوید بھی سناء ہے۔صدافسوس!
ہمارے تاجر دھوکے کے گھر اور مچھر کے پر کے لئے مرے جا رہے ہیں۔کیسی عجیب بات ہے کہ بجٹ پیش ہونے کے بعد چند منٹوں میں ہمارے نیک صفت تاجر حضرات لکھ پتی سے کروڑ پتی بن جاتے ہیں۔معلوم نہیں ان کو کسی نے بتایا ہی نہیں ہے اور اگر بتایا بھی ہے تو بھول بیٹھے ہیں کہ اک دن مرنا بھی حضور!ہمارے یہ شرفاء￿  نجانے کیوں ؟منافع خوری سے اپنی طرح بنے انسانوں کا حق کھا کر جس اولاد کے لئے بنگلے ، کوٹھیاں ، بینک بیلنس بنا رہے ہیں۔وہ اولاد بڑھاپے میں ان کی خدمت بھی کرے گی کہ نہیں ؟راقم نے تو بطور ڈاکٹر انسانیت کے ساتھ ظلم روا رکھنے والوں کو آئی سی یو میں سسکتے ہوئے دیکھا ہے۔
اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔ ہم کس طرف چل پڑے ہیں ؟ہمارے سر پر دن رات ایک ہی دھن سوار ہے۔بس پیسہ ، پیسہ اور پیسہ صدافسوس!ہمارا ہر کام جھوٹ سے شروع ہو کر دھوکے پر ختم ہوتا ہے۔اچھے اخلاق ہم سے کوسوں دور ہیں۔
ہر شخص بے صبرا ہے اور چھوٹی چھوٹی بات پر لڑاء جھگڑا ، قتل و غارت ہمارا معمول ہے اور پیارے دیس میں حلال روزی دیوانے کا خواب ہی ہو سکتا ہے۔سرکاری دفاتر میں بنا رشوت کے کام ہو جائے۔ایسا ممکن نہیں ہے۔ان دگرگوں حالات کا نوحا پڑھنے والے میرے ایک دوست نے مجھے یہ کہہ کر لاجواب کر دیا کہ تم اور تمہارے اساتذہ کرام جتنے مرضی کالم لکھتے جائیں۔
کسی کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑنا ہے۔
یہاں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ؟