ڈاکٹر جاوید اقبال
سینیٹر انوشہ رحمٰن نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے اجلاس میں بتایا پاکستان میں تربیت پانے والے ڈاکٹرز کی بڑی تعداد ملک میں خدمات دینے کے بجائے غیر ممالک میں روزگار کو ترجیح دے رہی ہے اور پاکستان کے 50 سے 60 فیصد ڈاکٹر بیرونِ ملک جا رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کی بیرون ملک یاترا کے حوالے سے اب سوال یہ ہے کہ سینیٹر انوشہ رحمٰن کے اس انکشاف پر کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت ہے کے نہیں ؟آخر ڈاکٹر کیونکرپردیس جا کر کام کرنے پر بضد ہیں ؟ اور آنے والے سالوں میں شعبہ طب کے حوالے سے ہمیں کس بحران کا سامنا کر پڑ سکتا ہے ؟ اور کیا ارباب اختیار کے نزدیک یہ کوئی اہم معاملہ بھی ہے یا پھر ہمیشہ کی طرح ڈنگ ٹپاو پالیسی بس آج کا دن گزر جائے ، کل کی کل دیکھی جائے گی پر ہی گزارا کیا جائے گا۔بطور ڈاکٹر میری نظر میں میڈیکل پروفیشن کی اوور ہالنگ کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں رجسٹرڈ ڈاکٹروں کی تعداد لگ بھگ تین لاکھ بیاسی ہزار پانچ سو انتالیس ہے۔وزارت برائے سمندر پار پاکستانی و افرادی قوت کے اعدادوشمار کے مطابق چالیس ہزار ڈاکٹرز بیرون ملک خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔اگر پاکستان کی آبادی کو مدنظر رکھا جائے تو ہمیں آبادی کے تناسب سے اس وقت چار لاکھ سے زائد ڈاکٹروں کی ضرورت ہے مطلب ایک ہزار افراد کے لئے ایک ڈاکٹر ہونا چاہیئے مگر یہاں دو ہزار افراد کے لئے ایک ڈاکٹر ہے۔ہر سال میڈیکل کالجز کی چند ہزار سیٹوں کے لئے لاکھوں بچے انٹری ٹیسٹ کا امتحان دیتے ہیں ، جن بچوں کا داخلہ سرکاری میڈیکل کالج میں نہ ہو ، وہ پرائیویٹ میڈیکل کالج میں سوا سے ڈیڈھ کروڑ روپے پانچ سال کے اخراجات ادا کرنے کے بعد ڈاکٹر بنتے ہے۔حالات یہ ہیں کہ کروڑوں روپے خرچ کرنے کے بعد فریش میڈیکل گریجوائیٹ کے لئے اول تو نوکری ہی نہیں ہے اور جو بیچارے کام کر رہے ہیں ، ان کو پرائیویٹ اسپتال والے چالیس ہزار سے زیادہ تنخواہ نہیں دیتے ہیں۔گو کہ دبنگ وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر نے پی ایم ڈی سی اور دوسرے فورمز پر ڈاکٹروں کے حق میں بھرپور آواز اٹھاء مگر کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی ہے۔مجھے لگ یہ رہا ہے کہ آئندہ سالوں میں والدین کی یہ خواہش میرا بیٹا ، بیٹی ڈاکٹر ہی بنے ، دم توڑ جائے گی کیونکہ ڈاکٹروں کے لئے زمین تنگ ہوتی جا رہی ہے ویسے بھی اپنے ہاں ڈاکٹروں کی پروموشن نہ ہونے کے برابر ہے۔یہ اہم ایشو کسی کی بھی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔خیر سے آج تک سٹیک ھولڈر ڈاکٹروں کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرنے کا رواج ہی کسی نے نہیں ڈالا ہے۔گھوم پھر کر مٹھی بھر ریٹائرڈ پروفیسر حضرات ڈاکٹر کش پالیسیاں ترتیب دے کر رہی سہی کسر پورا کر رہے ہیں۔بدقسمتی سے ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیم واء ڈی اے نے اپنی ساری انرجی ہڑتالوں ، ذاتی مفاد اور مریضوں کے علاج و معالجہ کو بند کرنے پر صرف کر دی۔ٹیچنگ اسپتالوں میں سینئر رجسٹرار ، اسٹنٹ پروفیسر ، ایسوسی ایٹ پروفیسر اور پروفیسرز کی سیکڑوں آسامیاں خالی ہیں۔مجھے اچھی طرح یاد ہے۔باکمال ، لاجواب ، عاجزی و ایمان داری کی عمدہ مثال ڈاکٹر احمد جاوید قاضی جب سیکریٹری صحت پنجاب تھے ، ان کے دور میں ڈاکٹرز کی ریکارڈ ترقیاں ہوء ، اس کے بعد
تو بریک سی لگ گء ہے۔مجھے بہت سے ڈاکٹر اپنی بروقت ترقی نہ ہونے کا دکھڑا سناتے رہتے ہیں۔
میں نے چند دن پہلے بھی لکھا کہ وزیر اعلی پنجاب ، خواجہ سلمان رفیق اور اپنے کام میں یکتا ، قابل سیکریٹری صحت جناب عظمت محمود ڈاکٹروں کی پی پی ایس سی کے ذریعے خالی سیٹوں پر بھرتی مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ مہینے میں ایک بار اپنے دفتر کھلی کچہری کا انعقاد کر کے اس امر کی نفی کر دیں کہ وہ عوامی نمائندوں سمیت کسی سے ملتے نہیں ہیں۔یہاں یہ بھی بتانا مقصود تھا کہ بیچارے ڈاکٹر عزت ہی کے تو بھوکے ہیں۔
بدقسمتی سے اپنے دیس میں ڈاکٹروں کو نہ سرکار عزت سے نوازتی ہے اور نہ ہی ناشکرے مریضوں سے مان ملتا ہے۔ڈاکٹر کھائے ، پئیے ، آرام کئے بغیر 36 ، 36 گھنٹے ڈیوٹیاں کم تنخواہ ، کم مراعات میں دیتے ہیں۔اگر یہ کہا جائے تو مضائقہ نہ ہو گا۔پاکستان کے ڈاکٹر اوور برڈن و اوور سٹریسڈ ہیں۔ان دگرگوں مسائل کا نوحا پڑھتے ہوئے دکھی پاکستانی معالجین کی اکثریت یہ کہتے نہیں تھکتی ، ہے کوء ڈاکٹروں کی سننے والا ؟اس سے بڑھ کر عجیب بات یہ ہے کہ ڈاکٹر مریضوں کی خدمت میں دن رات ایک کر دیں ، ذرا سی بھی غلطی کو بھی مریضوں کے لواحقین کی طرف سے نہیں بخشا جاتا ہے ، مریض سال ، سال علاج نہیں کراتے ، لواحقین مریض کو سریس کنڈیشن میں اسپتال لا کر یہ توقع کرتے ہیں کہ مریض فوری اٹھ کر بیٹھ جائے گا ، اگر ایسا نہ ہو ، مریض کے ساتھ آنے والے جتھے گالیوں ، مکوں سے ڈاکٹروں کی دھلاء کرتے ہیں ، کء واقعات میں تو ڈاکٹر جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور تو اور طبی عملے کی غلطیاں بھی ڈاکٹروں کے کھاتے میں ڈال دی جاتی ہیں اور پھر ہیلتھ کئیر کمیشن نے ڈاکٹروں کو ہی نتھ ڈالنے کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے ، مجال ہے کسی عطاء کے خلاف طبل جنگ بجایا گیا ہو ، اس کے ساتھ ساتھ خیر سے ڈاکٹرز کمیونٹی میں بھی چند گندے انڈے پائے جاتے ہیں ، جنھیں عرف عام میں چھرا بھی کہا جاتا ہے ، انہی بدبودار ڈاکٹروں کیوجہ سے طبی قبیلہ بدنام ہے ،جن کا کام میڈیکل کمپنیوں سے مال کھانا ، مریضوں کی کھال ادھیڑنا اور اپنے پیٹ کے لئے دوسرے ڈاکٹروں کی بدخوہی کرنا شامل ہے۔ابھی کل ہی مجھے ایک ڈاکٹر دوست نے کہا کہ شہر لاہور میں کچھ ڈاکٹر اپنے کلینک پر مریضوں کو غلط پٹی پڑھاتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب نے آپ کا آپریشن ٹھیک نہیں کیا ہے ، ان کو تو کام ہی نہیں آتا ہے حالانکہ اس میں کوء صداقت نہیں ہوتی ہے۔
میرے ڈاکٹر دوست نے کہا۔سر جی!کسی دن خدانخواستہ پیٹ کے ان پجاری بدبخت ڈاکٹروں کیوجہ سے مریضوں کے اٹنڈنٹ غصے میں آ کر کسی ڈاکٹر کو گولی نہ مار دیں۔آپ پلیز اس بابت کچھ کریں۔میں نے کہا۔یار حرامی خور جس کے خون میں شامل ہو ، جسے مرنا یاد نہ ہو ، اس پر قانون کا بھی کیا اطلاق ہونا ہے ؟ اور ان بے ہدایت لوگوں پر وعظ و نصیحت کا بھی بھلا کیا اثر پڑنا ہے ؟میں نے اپنے دوست سے کہا۔
اللہ ہمیں ایسے بے رحم ، ظالم ، فراڈئیے ڈاکٹروں سے محفوظ فرمائے۔آمین