ڈاکٹر جاوید اقبال
متحدہ عرب امارات کے صدر عزت ماب جناب محمد بن زید النہیان کچھ دن پہلے رحیم یار خان تشریف لائے ہیں۔
برادر ملک کی رائل فیملی ہر سال چھٹیاں گزارنے رحیم یار خان آتی ہے۔خاکسار کا تعلق بھی رحیم یار خان سے ہے۔
یو اے ای کے موجودہ صدر کے والد محترم جناب شیخ زید بن سلطان النہیان جن کو ہمارے شہر کے لوگ ابوظہبی کے نام سے پکارتے تھے۔
آنجناب اکثررحیم یار خان آتے تھے۔یوں کہ لیں۔رحیم یار خان ان کا دوسرا گھر تھا۔وہ شہر سے باہر چولستان میں اپنے پیلس میں رہتے تھے۔یو اے ای کے حکمرانوں نے ابوظہبی سے رحیم یار خان آنے کے لئے بین الاقوامی ائیرپورٹ تعمیر کروایا۔بعد ازاں یہ ائیرپورٹ حکومت کو عطیہ کر کے انٹرنیشنل رن وے پیلس کے قریب بنا دیا گیا ہے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے۔جب بچپن میں شیخ زید اسپتال رحیم یار خان کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔پورے شہر کو کھانا کھلانے کے لئے ان گنت دیگیں پکائی گئیں‘پھر کئی سالوں کی محنت کے بعد ایک دن شاہکار سینٹرلی ائرکنڈیشنڈ اسپتال عوام کے لئے کھول دیا گیا۔نئی بلڈنگ میں سرجیکل کے دو وراڈ ، گائنی و بچہ وارڈ ، ایکسرے پلانٹ ، الٹراساؤنڈ ، ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ ، پتھالوجی لیب ، سی سی یو ، آوٹ ڈورز ، ایڈمن بلاک ، پرائیویٹ رومز ، فزیوتھراپی ڈیپارٹمنٹ ، جدید آلات سے لیس نیا آپریشن تھیٹر اور ایکسیڈنٹ اینڈ ایمرجنسی وارڈ فعال کر دئیے گئے۔نئی تعمیر شدہ اسپتال کی بلڈنگ کے ساتھ ڈی ایچ کیو اسپتال کی پرانی بلڈنگ میں باقی تمام شعبہ جات کام کر رہے تھے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یو اے ای کے ہی تعاون سے آجکل شیخ زید میڈیکل کالج رحیم یار خان کی بلڈنگ پوری آب و تاب سے چمک رہی ہے۔راقم کو یہ بات لکھتے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ شیخ زید اسپتال رحیم یار خان میں ایم آر آء ، سی ٹی سکین سے لیکر جدید ترین مشنیری ، سنئیر و جونئیر ڈاکٹرز ، نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف کی ان گنت نشستیں پیدا کرنے میں پروفیسر عیص محمد پرنسپل شیخ زید میڈیکل کالج رحیم یار خان ، میرے ابا جی حضور ملک محمد بخش ایڈمن آفیسر ، کرنل (ر) رانا کمال آف ھوبارہ فاونڈیشن اور فرزند رحیم یار خان جناب چوہدری منیر اعزازی سفیر یو اے ای کی شبانہ روز کی انتھک محنت شامل ہے۔اللہ کے بندوں نے ناممکن کام کو ممکن بنا دیا۔ان شخصیات نے مخلوق کی خدمت کے اس عظیم منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر اپنا نام اللہ کے پسندیدہ بندوں کی فہرست میں لکھوا لیا ہے۔شہر رحیم یار خان میں شیخ زید اسپتال ، شیخ زید اسکول ، چولستان کے قدیم کلچر اور صحرائی زندگی کو محفوظ بنانے کے لئے سیکڑوں واٹر فلٹریشن پلانٹس ، ماحولیات ، چرند پرند ، نباتات و جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے ہزاروں ایکڑ مختص رقبہ ، صحرا میں تلور کی ناپید ہونے والی نسل کو بچانے کے لازوال منصوبے ، ھوبارہ فاونڈیشن کے بینر تلے رائل فیملی کی ذاتی دلچسپی سے پروان چڑھے۔
شاہی خاندان کے رحیم یار خان شہر پر ہی احسانات نہیں ہیں۔
شیخ زید اسپتال لاہور ، شیخ زید اسپتال کوئٹہ بھی یو اے ای حکومت کے مرہون منت ہے۔پورے پاکستان میں کم و بیش 250 ان گنت منصوبے یو اے ای کے تعاون سے بنی نوع انسانوں کی خدمت میں پیش پیش ہیں۔ابھی 3 دن پہلے وزیراعظم پاکستان سے ملاقات میں صدر محترم محمد بن زید النہیان نے پاکستان کے ذمے 2 ارب ڈالر کے قرضے کو بھی موخر کر دیا ہے اور گذشتہ برس اماراتی صدر نے انفارمیشن ٹیکنالوجی ، توانائی کے قابل تجدید منصوبوں ، سیاحت سمیت کء شعبوں میں دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔اگر ہم یوں کہیں تو بے جا نہ ہو گا کہ ہمارا دیس امارات کے دل میں بستا ہے۔اس وقت سولہ لاکھ پاکستانی یو اے ای میں مقیم ہیں۔اتنی بڑی تعداد میں غیر ملکیوں کو بھلا کون پالتا ہے ؟ اور انہی
اربوں ڈالر کے ذرہ مبادلہ کی بدولت ہم دیوالیہ ہونے سے بچے ہوئے ہیں۔
ویسے ہم چین کی دوستی پر تو فخر کرتے ہیں کہ یہ شہد سے میٹھی اور ہمالیہ سے بھی اونچی ہے۔ایسے سنہری حروف بچے بچے کی زبان پر ہونے چاہئیے بلکہ ہمیں دنیا کو بتانا اور دکھانا ہے کہ یو اے ای جیسا دوست کوء نہیں۔
بدقسمتی سے اپنے ہاں ہر شے الٹ سمت میں چلتی ہے۔
ساری دنیا جانتی ہے۔
ہم دنیا کی سب سے زیادہ گلہ شکوہ کرنے والی قوم ہیں۔
بیرون ملک بھکاریوں کے غول ہمارے ہی ہوتے ہیں۔دھوکہ دہی ، جھوٹ بولنے میں بھی اپنا پہلا نمبر ہی آتا ہے۔
ہمارے کرتوتوں کے باعث یو اے ای نے ہمارے لئے ویزہ کی سکروٹنی بڑھا دی ہے۔ہر ملک کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی حفاظت کو مقدم رکھے۔
ہمارے شکوے بنتے نہیں ہیں۔
آخر ہم احسان فراموش پاکستانیوں پر یو اے ای کے حکمران اور کیا نچھاور کریں ؟
فی زمانہ تو کوء ایک ٹیڈی پیسہ بھی کسی کو نہیں دیتا ہے۔
نجانے کیوں ؟
ہم اپنی انا پرستی اور خود پسندی کی بھینٹ معزز مہمانوں کو چڑھا دیتے ہیں۔
خدا کی پناہ!
یو اے ای کے صدر محمد بن زید النہیان کی آمد پر شہباز شریف اور مریم نواز کی ملاقات پر من چلوں نے سوشل میڈیا پر میمز کا جو جمعہ بازار لگایا۔اسے لکھنا محال ہے۔افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے معزز مہمان گرامی پر ان بکواسیات نے کیا تاثر چھوڑا ہو گا ؟ اور تو اور دن رات اپنے منہ سے گند اگلنے والے ہمارے سیڈسٹ قسم کے گھٹیا لوگ ہر سال شاہی مہمانوں کی رحیم یار خان آمد بارے ایسے ایسے مغلظات بکتے ہیں کہ نہ پوچھئیے۔
اب عقل کے ان اندھے ، گونگے ، بہرے ، سائکو لوگوں کو جا کر کون بتائے ؟
یہ تو شاہی خاندان کی مہربانی ہے کہ ہم جیسے منگتوں کو عزت بخشتے ہیں۔
ان شہزادوں کو کسی چیز کی کمی ہے کیا ؟
وہ بھارت جا کر بھی ڈیرے ڈال سکتے ہیں۔
خیر سے یو اے ای میں رہنے والے بھارتیوں کی تعداد غیر ملکیوں میں سب سے زیادہ ہے اور آہستہ آہستہ یہ تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور دوسری طرف ہماری گنتی کم ہوتی جا رہی ہے۔
کاش ہم آپس کی لڑائیوں میں اپنے محسنوں کو رگڑ لگانے سے باز آ جائیں۔
امید تو نہیں ہے مگر امید پر ہی دنیا قائم ہے۔
اللہ پاک ہمیں ہدایت عطا فرمائے۔آمین