دہشت گردوں کا بلوچ روایات سے کوئی تعلق نہیں

محمد شاہ دوتانی
اب یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کے متعدد واقعات میں ملوث ہے۔ بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے مستند شواہد بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کی جانب سے بارہا بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے ثبوت پیش کیے گئے ہیں۔ پاکستان بھارت کی ریاستی دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ممالک میں شامل ہے بھارت برسوں سے بلوچستان میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کی خفیہ مہم چلا رہا ہے۔بھارتی ریاستی دہشت گردی کا شکار پاکستان تو ہے ہی اس کے ساتھ ساتھ دیگر ممالک بھی اس سے متاثر ہیں۔ بھارت پاکستان میں اپنے پراکسیز کے ذریعہ دہشت گردی کرتا ہے، جب پاکستان نے دہشت گردوں کے لیے زمین تنگ کرنا شروع کی تو بھارت اپنی فوج کے ذریعے براہ راست دہشت گردی پر اتر آیا۔ دنیا جانتی ہے کہ بھارت نے اپنے پراکسی دہشت گردوں کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دیا ہے۔یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں بھارت کس طرح ملوث ہے۔ بھارت کی جارحانہ پالیسی اور طاقت کے ذریعے غلبے کی کوششیں جنوبی ایشیا کو ایک خطرناک نیوکلیئر تصادم کی طرف لے جا سکتی ہیں۔
پاکستان کے اندر دہشت گرد اور ان کے سہولت کار وطن عزیز کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے لیے سرگرم عمل ہیں جب کہ پاک فوج ان کی سرکوبی کے مشن پر گامزن ہے ،ابھی حال ہی میںفتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے بلوچستان کے شہر سوراب میں بینک کو لوٹ لیا اور مختلف سرکاری افسران کے گھر جلادیے، دفاع کرتے ہوئے اے ڈی سی ریونیو شہید ہوگئے۔ واقعات کے مطابق گزشتہ روز شام کے وقت بیس سے تیس دہشت گرد موٹرسائیکلوں پر بازار میں داخل ہوئے، سافٹ ٹارگٹ جیسا کہ بینک اور مارکیٹوں کو نشانہ بنایا، بازار میں عام بلوچ خواتین اور بچوں پر بھی تشدد کیا، بچوں اور عورتوں کو بچانے کے دوران اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے بلیدہ سے تعلق رکھنے والے اور سوراب کے اے ڈی سی آر ہدایت اللہ بلیدی نے جام شہادت نوش کیا جبکہ ایف سی کو آتا دیکھ دہشت گرد فرار ہوگئے۔فتنہ الہندوستان نے بلوچ علاقوں کو اور بلوچ خواتین و بچوں کو ٹارگٹ کر کے ایک دفعہ پھر ثابت کیا کہ ان انڈین سپانسرڈ دہشت گردوں کا بلوچستان اور بلوچ روایات سے کوئی تعلق نہیں۔
دہشت گردوں نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کو خصوصی طور پر ٹارگٹ کر رکھا ہے۔ ان دونوں صوبوں کی افغانستان کے ساتھ طویل سرحد ہے۔ پاکستان میں جو دہشت گرد گروہ برسرپیکار ہیں، وہ مختلف ناموں اور بیانیوں کے تحت کام کر رہے ہیں۔ کچھ گروہ مذہبی لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں جب کہ کچھ گروہ قوم پرستی کے لبادے میں قتل وغارت کر رہے ہیں۔ ان گروہوں کا آپس میں پورا رابطہ ہے اور ان کی ایجنڈا سیٹنگ بھی ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہے۔ پاکستان کے اندر ان گروہوں کے سہولت کار اور مخبر بھی موجود ہیں اگر ایسا نہ ہو تو یہ گروہ پاکستان کے اندر کسی قسم کی واردات نہیں کر سکتے۔پاکستان کے سسٹم کے اندر بھی ان گروہوں نے نقب لگا رکھی ہے جبکہ سیاست، اہل علم، ذرایع ابلاغ، بزنس اور پروفیشنلز کے اندر بھی ان کے ہمدرد مختلف شکلوں میں موجود ہیں۔ یوں دہشت گردی ایک پیچیدہ اور تہہ در تہہ اپنی جڑیں بچھائے ہوئے ہیں،پاکستان کے لیے یہ لڑائی بیرونی حملوں سے بھی زیادہ خطرناک اور پیچیدہ ہے۔پاکستان کو یہ جنگ جیتنے کے لیے گہری منصوبہ بندی، اطلاعاتی نیٹ ورک اور پروفیشنل ریاستی مشینری کی ضرورت ہے ،پاکستان کی مسلح افواج اور سیکیورٹی ادارے دہشت گردوں کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ دہشت گردوں کے سہولت کاروں، ان کے فنانسرز، ان کے نظریاتی سہولت کاروں کو مارجنلائز کرنے کے لیے ملک کی سیاسی قیادت، دینی طبقے اور اہل علم کو اپنی ذمے داریاں پوری کرنے کے لیے آگے آنا ہو گا۔ پاکستان اگر دہشت گردی اور اس کو تقویت اور زندگی دینے والی قوتوں پر قابو پانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو بیرونی دشمنوں سے مقابلہ کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔