ترسیلات زر میں گزشتہ مالی سال کے دوران 26.6 فیصد کا قابل ذکر اضافہ ہوا، جو 30 ارب ڈالر سے بڑھ کر 38 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں‘محصولات میں بہتری
کرنٹ اکاؤنٹ معاشی بہتری کا اہم اشاریہ ثابت ہوا، جو 14 سال بعد سرپلس میں آیا ‘ زرعی اور نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں بھی اضافہ ہوا:ماہانہ معاشی آئوٹ لک رپورٹ
اسلام آباد (آن لائن) وزارتِ خزانہ کی جاری کردہ ماہانہ معاشی آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال پاکستان کی معیشت میں بہتری کے واضح آثار دیکھنے میں آئے ہیں۔ کئی اہم اقتصادی اشاریوں میں مثبت رجحان ریکارڈ کیا گیا، جن میں ترسیلات زر، برآمدات، محصولات، اور مالی ذخائر شامل ہیں، جبکہ مہنگائی اور مالیاتی خسارے میں نمایاں کمی نوٹ کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ترسیلات زر میں گزشتہ مالی سال کے دوران 26.6 فیصد کا قابل ذکر اضافہ ہوا، جو 30 ارب ڈالر سے بڑھ کر 38 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔ برآمدات میں 4.2 فیصد اور درآمدات میں 11.1 فیصد اضافہ ہوا، جس سے تجارتی سرگرمیوں میں وسعت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ بھی معاشی بہتری کا اہم اشاریہ ثابت ہوا، جو 14 سال بعد سرپلس میں آیا اور 2 ارب 10 کروڑ ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح ملک کے مجموعی مالی ذخائر 19.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ مہنگائی کی شرح میں غیرمعمولی کمی دیکھنے میں آئی، جو 23.4 فیصد سے گھٹ کر 4.5 فیصد پر آ گئی۔ یہ کمی عوامی ریلیف کا باعث بنی ہے اور معیشت میں استحکام کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔ محصولات کے شعبے میں بھی خاصی بہتری دیکھنے میں آئی۔ ایف بی آر کے مطابق گزشتہ مالی سال کے ابتدائی 11 ماہ میں محصولات میں 26.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ نان ٹیکس آمدنی میں 62.7 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا۔ مجموعی طور پر مالیاتی خسارہ 18.34 فیصد کم ہوا، جو حکومتی مالیاتی نظم و ضبط کو ظاہر کرتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ زرعی اور نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں بھی اضافہ ہوا، جس سے اقتصادی سرگرمیوں کو سہارا ملا۔ تاہم روپے کی قدر میں گزشتہ مالی سال 5 روپے کی کمی بھی رپورٹ کی گئی۔وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو آنے والے مالی سالوں میں معیشت مزید مضبوط ہو سکتی ہے، جس کے مثبت اثرات عوام اور کاروباری طبقے تک پہنچیں گے۔