حکومت ہپاٹائٹس کو روکنے کیلئے ٹھوس کوششیں کر رہی ہے‘اپنی عوام کی صحت کے تحفظ کے اپنے عزم کا اعادہ کرنے میں عالمی برادری کے ساتھ ہیں:وزیراعظم

معیشت کی ڈیجیٹائزیشن سے  شفافیت آئیگی شہبازشریف
معیشت کی ڈیجیٹائزیشن اور کیش لیس اکانومی کے حوالے سے تمام صوبائی حکومتیں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی حکومتیں وفاقی حکومت سے بھرپور تعاون کریں:اجلاس میں گفتگو
 اسلام آباد(آئی این  پی) وزیر اعظم محمد شہباز شریف  نے کہا ہے  ملک میں معیشت کی ڈیجیٹائزیشن سے شفافیت کے فروغ میں مدد ملے گی۔وزیر اعظم کی زیر صدارت کیش لیس و ڈیجیٹل اکانومی کے حوالے سے اقدامات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس ہوا۔جائزہ اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت کی ڈیجیٹائزیشن ٹرانسفاریشن پلان کی بنیادی اساس عوام کو بغیر اضافی اخراجات کے سہولت بہم پہنچانا ہے۔ حکومت پالیسی اقدامات سے ڈیجیٹل ادائیگیوں اور رقوم کی ڈیجیٹل منتقلی کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ وفاقی حکومت ڈیجیٹائزیشن ٹرانسفارمیشن پلان پر مثر اور جامع عمل درآمد کے لیے صوبائی حکومتوں سے بامعنی مشاورت کرے۔ معیشت کی ڈیجیٹائزیشن اور کیش لیس اکانومی کے حوالے سے تمام صوبائی حکومتیں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی حکومتیں وفاقی حکومت سے بھرپور تعاون کریں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور صوبائی اداروں کے تعاون سے وفاقی حکومت کے ڈیجیٹائزیشن ٹرانسفارمیشن پلان کو مزید مستعد بنایا جائے تاکہ اہداف مقررہ وقت میں حاصل کیے جا سکیں‘دریں اثناء    ہیپاٹائٹس کے عالمی دن پر پیغام میں شہباز شریف نے کہاہے عالمی دن کے موقع پر ہم ہیپاٹائٹس کے خاتمے اور اپنی عوام کی صحت کے تحفظ کے اپنے عزم کا اعادہ کرنے میں عالمی برادری کے ساتھ شامل ہیں۔پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو عالمی سطح پریپاٹائٹس سی کے مرض میں نمایاں ہیں،وائرل ہیپاٹائٹس صحت عامہ کے عالمی چیلنجوں میں سے ایک ہے۔انہوں نے کہا کہ ہیپاٹائٹس بی یا سی سے متاثر ہونے والے افراد کی ایک بڑی تعداد غیر تشخیص شدہ اور لا علاج رہتی ہے،جب کہ ہیپاٹائٹس معاشرے کے تمام طبقات کے لیے خطرہ ہے، بعض آبادیوں کو زیادہ خطرہ رہتا ہے، جن میں غیر محفوظ خون کی منتقلی لینے والے افراد، غیر منظم طبی طریقہ کار سے گزرنے والے مریض، متاثرہ ماں کے نوزائیدہ بچے، صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنان اور آلودہ آلات یا دوبارہ استعمال شدہ سرنجوں کے استعمال، ناکافی انفیکشن کنٹرول، خاص طور پر دیہی اور کم وسائل والی علاقوں میں خطرہ بڑھا دیتا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت پاکستان اس وبا کو روکنے کے لیے ٹھوس کوششیں کر رہی ہے