لاہور کے داتا دربار کے قریب سیوریج لائن میں ماں بیٹی کے گرنے کے واقعے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سے متعلق ہے۔
رپورٹ کے مطابق، متاثرہ خاتون، بچی اور ان کے شوہر کو شام 6:47 بجے داتا دربار کے قریب شاپنگ کرتے دیکھا گیا، اور وہ رات 7:22 بجے وہاں پہنچے۔ پھر 7:30 بجے کے قریب وہ پرانی پرندہ مارکیٹ کی جانب جاتے دکھائی دیے۔ اس کے بعد 7:32 بجے ریسکیو 1122 کو کال موصول ہوئی کہ خاتون اور بچی گر گئی ہیں، اور ریسکیو عملہ 4 منٹ میں وہاں پہنچ گیا۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ خاتون کی ساس نے وہاں شور مچا کر لوگوں کو بلایا۔ تاہم، ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ریسکیو 1122 کے افسر فاروق امجد کے ایک آڈیو میسج نے معاملے کو الجھایا ہے، جس میں انہوں نے اپنی تحقیقات کا ذکر کیا اور کہا کہ ان کے مطابق حالات بتا رہے ہیں کہ واقعہ فیک کال ہو سکتی ہے، کیونکہ وہ مشکوک حالات کا ذکر کر رہے ہیں۔
سیکریٹری ریسکیو رضوان نصیر نے بھی اس آڈیو کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔مجموعی طور پر، یہ رپورٹ واقعے کے پس منظر اور ابتدائی تحقیقات کے مراحل کو ظاہر کرتی ہے، اور اس میں تفتیش کاروں کے سوالات اور شبہات بھی سامنے آئے ہیں کہ آیا یہ واقعہ حقیقت میں ہوا یا کسی فیک کال کا نتیجہ ہے۔