داتا دربار کے قریب نالے میں گرنے والی خاتون کی لاش برآمد، بچی کی تلاش جاری

داتا دربار کے قریب نالے میں گرنے والی خاتون کی لاش برآمد، بچی کی تلاش جاری

لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ کے قریب کھلے نالے میں گرنے والی 24 سالہ خاتون کی لاش تقریباً تین کلومیٹر دور آؤٹ فال روڈ سے برآمد کر لی گئی، جبکہ 10 ماہ کی بچی کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔

ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کو کال کی گئی اور تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے متاثرہ خاتون کے شوہر کے بیان کی مکمل تصدیق ہو چکی ہے۔ فیملی داتا دربار میں حاضری کے بعد روانہ ہو رہی تھی کہ حادثہ پیش آیا، جبکہ سیف سٹی کیمروں سے تمام شواہد حاصل کر لیے گئے ہیں۔دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی ہے، جو 24 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرے گی۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر ڈائریکٹر ٹیپا شبیر حسین کو معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ غفلت کے مرتکب پراجیکٹ ڈائریکٹر زاہد عباس اور ڈپٹی ڈائریکٹر شبیر احمد کو بھی معطل کر دیا گیا۔خاتون کی لاش ملنے سے قبل ریسکیو ذرائع کا کہنا تھا کہ جس سیوریج ہول میں افراد کے گرنے کا دعویٰ کیا گیا، وہاں تکنیکی طور پر ڈوبنا ممکن نہیں۔

 مذکورہ مقام داتا دربار کے قریب پرندہ مارکیٹ میں واقع ہے، جہاں انتظامیہ نے کھدائی کر رکھی تھی اور واقعے کے وقت علاقہ تاریک تھا۔ریسکیو 1122 کی اسپیشلائزڈ ٹیمیں اور غوطہ خور چند منٹوں میں موقع پر پہنچ گئے تھے، تاہم ابتدائی طور پر لاہور انتظامیہ نے سیوریج لائن کے معائنے کے بعد کسی حادثے کی تردید کی تھی۔اسی دوران لاپتہ خاتون کے والد نے پولیس کو بیان دیا کہ ان کی بیٹی کو قتل کیا گیا ہے، جس پر پولیس نے خاتون کے شوہر سمیت تین افراد کو حراست میں لیا، تاہم بعد ازاں انہیں رہا کر دیا گیا۔ابتدائی معلومات کے مطابق متاثرہ خاندان تفریح کے لیے گھر سے نکلا تھا اور مینارِ پاکستان کے بعد داتا دربار پہنچا، جہاں خاتون اور بچی کھلے نالے کی منڈیر پر بیٹھیں اور دونوں نیچے گر گئیں۔