بیجنگ: چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ملاقات میں ایران اور امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ تنازع کے دوران تحمل کا مظاہرہ کریں اور مذاکرات کی طرف واپس آئیں۔
بیجنگ میں ہونے والی ملاقات کے دوران وانگ یی نے کہا کہ چین ایران کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کیلئے تعاون جاری رکھنے کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کیلئے تیار ہے۔چینی وزیر خارجہ نے آبنائے ہرمز کو جلد از جلد دوبارہ کھولنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ تمام متعلقہ فریق مؤثر اقدامات کریں تاکہ اس اہم بحری گزرگاہ پر معمول کی آمدورفت بحال ہوسکے۔ چین کے مطابق آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری آمدورفت عالمی توانائی کی ترسیل اور سپلائی چین کے استحکام کیلئے بھی اہم ہے۔وانگ یی نے ایران اور امریکا پر زور دیا کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی طرف واپس آئیں اور باہمی تشویش کے معاملات پر بامعنی مذاکرات کریں۔ انہوں نے خطے میں جاری کشیدگی کے مزید یمن اور بحیرہ احمر تک پھیلنے کے خدشے کا بھی اظہار کیا۔چین اس سے قبل بھی ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی بحالی اور کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا رہا ہے، جبکہ بیجنگ نے پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کوششوں کو بھی سراہا ہے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بدستور انتہائی محدود ہے۔ رائٹرز کے مطابق منگل کو صرف چار بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو گزشتہ 10 روز کی اوسط 18 جہازوں کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔ بعض جہاز ٹرانسپونڈر بند ہونے کی وجہ سے اعداد و شمار میں شامل نہ بھی ہوئے ہوں، تاہم آبنائے ہرمز سے جنگ سے قبل روزانہ عالمی تیل اور ایل این جی کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل ہوتی تھی۔یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی محدود بحری آمدورفت نے عالمی توانائی اور سمندری تجارت کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کیا ہے۔