الیکشن، حسینہ واجد کی حکومت کا تختہ الٹنے والے نوجوان مایوسی کا شکار

 نوجوانوں کو جس تبدیلی کی امید کی تھی، وہ اب مدھم پڑتی دکھائی دے رہی ہے
ڈھاکہ(آئی  این پی )بنگلہ دیش کے نوجوانوں نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت ختم کرنے کے بعد جس بڑی تبدیلی کی امید کی تھی، وہ اب مدھم پڑتی دکھائی دے رہی ہے،  نوجوان مایوسی کا شکار  ہیں ۔برطانوی خبر رساں ادارے  کے مطابق، ڈھاکہ یونیورسٹی کے طالب علم شادمان مجتبی ان نوجوانوں میں شامل تھے جنہوں نے اپنے والدین اور پولیس کی مخالفت کے باوجود احتجاج میں حصہ لیا۔شادمان کا ماننا تھا کہ یہ مظاہرے خاندانی سیاست کے خاتمے اور جمہوریت کے قیام کے لیے ضروری ہیں۔ تاہم 12 فروری کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے پہلے ان کی امیدوں میں واضح کمی آچکی ہے۔شادمان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک ایسے بنگلہ دیش کا خواب دیکھا تھا جہاں جنس، نسل اور مذہب سے بالاتر ہو کر سب کو برابر مواقع ملیں، مگر جس قسم کی پالیسی تبدیلیوں اور اصلاحات کی توقع تھی وہ ابھی نظر نہیں آ رہیں۔شادمان جیسے ہزاروں نوجوانوں نے 2024 میں سڑکوں پر نکل کر شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا، کیونکہ وہ حسینہ کے دور میں سیاسی دبا، بے روزگاری اور معاشی مواقع کی کمی سے تنگ آ چکے تھے اور ایک نئے بنگلہ دیش کے خواہاں تھے۔