عمران خان اور علی امین گنڈاپور کی ملاقات کی تفصیلات منظرِ عام پر آ گئیں

عمران خان اور علی امین گنڈاپور کی ملاقات کی تفصیلات منظرِ عام پر آ گئیں

عمران خان اور خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے درمیان ہونے والی ملاقات میں صوبے کی گورننس اور کرپشن کے مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

 ذرائع کے مطابق، عمران خان نے علی امین گنڈاپور کو بتایا کہ انہیں صوبے میں بیڈ گورننس اور کرپشن کی شکایات موصول ہو رہی ہیں، جس کے نتیجے میں انہوں نے گورننس میں بہتری لانے کی ضرورت پر زور دیا۔علی امین گنڈاپور نے عمران خان کو بتایا کہ پوسٹنگ اور ٹرانسفرز کے حوالے سے ان کا کوئی براہِ راست کردار نہیں ہے اور یہ کام بیشتر اراکین اسمبلی کی سفارشات پر کیا جاتا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ اراکین اسمبلی خود اپنی سفارشات دیتے ہیں اور شکایتیں ان کے خلاف کی جاتی ہیں۔عمران خان نے اس بات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور سے کہا کہ چونکہ وہ اب پارٹی کی صدارت کے عہدے پر نہیں ہیں، اس لیے ان کے لیے گورننس پر توجہ مرکوز کرنے کا بہترین موقع ہے۔ عمران خان نے یہ بھی کہا کہ صوبے کی گورننس بہتر کرنے کے لیے علی امین گنڈاپور کو مکمل اختیار دیا گیا ہے اور کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ملاقات کے بعد، علی امین گنڈاپور نے خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی اینٹی کرپشن سے ملاقات کی اور انہیں ہدایت کی کہ صوبے میں کرپشن کے خاتمے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں اور جو لوگ کرپشن میں ملوث ہوں، انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

مشیرِ اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے بھی اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ نے واضح طور پر کہا ہے کہ صوبے میں کرپشن کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس کے خاتمے کے لیے تحقیقات کی جائیں گی۔ بیرسٹر سیف نے مزید کہا کہ تحقیقات کے بعد جو بھی کرپشن میں ملوث پائے جائیں گے، ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔یہ ملاقات اور اس کے بعد کیے جانے والے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت گورننس کے مسائل اور کرپشن کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہے اور وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور کو مکمل اختیار دیا گیا ہے تاکہ وہ صوبے میں نظم و ضبط قائم رکھ سکیں اور شکایات کا جلد از جلد ازالہ کر سکیں۔