یہ ملاقات اڈیالہ جیل میں ہوئی، جس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان سے دو گھنٹے سے زائد وقت تک تفصیلی بات چیت کی۔
ملاقات کے دوران کئی اہم پہلو زیرِ بحث آئے:
امن و امان اور سیکیورٹی:
علی امین گنڈاپور نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال، قبائلی جرگوں کے انعقاد اور حکومت کے اقدامات کے بارے میں عمران خان کو تفصیل سے آگاہ کیا۔ عمران خان نے صوبے میں قیام امن کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔
معاشی صورتحال اور بجٹ:
صوبے کی معاشی صورتحال اور بجٹ پر بریفنگ دی گئی، جس پر عمران خان نے اطمینان کا اظہار کیا اور مشیر خزانہ مزمل اسلم کو مزید تفصیلی بریفنگ کے لیے طلب کرنے کی ہدایات دیں۔
پارٹی امور اور اختلافات:
ملاقات میں پارٹی کے اندرونی اختلافات پر بھی بات ہوئی۔ عمران خان نے پارٹی میں یکجہتی برقرار رکھنے، باہمی اعتماد کو مضبوط کرنے اور منفی بیان بازی یا اختلافات پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اختلافات پیدا کرنے والوں کے لیے پارٹی میں کوئی جگہ نہیں۔
افغانستان سے رابطہ کاری:
عمران خان نے علی امین گنڈاپور کو افغانستان کے ساتھ مذاکرات اور رابطہ کاری کو یقینی بنانے کی ہدایات دیں۔
قانون کی بالادستی اور تحریک:
عمران خان نے وزیراعلیٰ کو تحریک کے حوالے سے تمام ضروری اقدامات اٹھانے اور قانون کی بالادستی کو فروغ دینے کی ہدایات دی۔
سپریم کورٹ سے رجوع:
ملاقات میں وزیر اعلیٰ نے عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی کے معاملے پر سپریم کورٹ سے دوبارہ رجوع کرنے کا بھی عندیہ دیا۔
بیرسٹر ڈاکٹر سیف کے مطابق، یہ ملاقات نہ صرف صوبے میں حکومت کے اقدامات کی جانکاری دینے کے لیے تھی بلکہ پارٹی میں اتحاد اور اندرونی ہم آہنگی قائم رکھنے کی حکمت عملی کے لیے بھی اہم ثابت ہوئی۔