صوفیہ کوپسند کی شادی پر والد،چچا،ساتھیوں نے مارکر لاش نہرمیں بہا دی،گرفتاری کیلئے چھاپے جاری
لاہور(کرائم رپورٹر)ہئیرپولیس نے 14 سال بعد غیرت کے نام پر قتل ہونے والی لڑکی کے قتل کا مقدمہ درج کر لیا۔ بیدیاں روڈ کے رہائشی شاہد کی مدعیت میں درج مقدمہ کے مطابق اس نے 2012 میں چونگی امرسدھو کی رہائشی صوفیہ سے پسند کی شادی کی،ایک ماہ بعد اسکے والدین نے صلح کے بہانے بیٹی کو گھر بلایا،پھر چند دن بعد صوفیہ کے والد اور چچا انکے گھر پہنچے اور صوفیہ کو واپس لے جانے کا مطالبہ کیا۔ انکار پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں، خوفزدہ ہوکر وہ ساہیوال منتقل ہو گیا اور دوسری شادی کر لی۔ ا س دوران اسکے والدین نے کئی بار صوفیہ کے ماں باپ سے رابطہ کیا لیکن کوئی حل نہ نکل سکا۔ بعد میں پتہ چلا صوفیہ کو اسکے والد، چچا اور دو نامعلوم افراد نے قتل کر کے لاش نہر میں بہا دی ہے۔ ہئیر پولیس نے آرگنائزڈ کرائم یونٹ کی معاونت سے صوفیہ کے والد عارف، چچا شوکت اور دو نامعلوم افراد کیخلاف مقدمہ درج کرکے ملزموں کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارنا شروع کر دئیے ہیں۔