وزیراعظم شہباز شریف نے سابق وزیراعظم عمران خان کے دور حکومت میں قائم کی گئی "نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی" کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
اس اتھارٹی کا مقصد ملک میں سستے گھروں کی فراہمی کے لیے بڑے پیمانے پر ہاؤسنگ اسکیمیں متعارف کرانا تھا، مگر حالیہ رپورٹس اور حکومتی ذرائع کے مطابق ادارہ مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔
تفصیلات:
اتھارٹی کی تحلیل کا فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف نے حالیہ جائزے کے بعد کیا، جس میں اتھارٹی کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیا گیا۔میجر جنرل (ر) عامر اسلم خان، جو اس اتھارٹی کے چیئرمین تھے، ان کے کنٹریکٹ کی مدت پوری ہونے کے بعد تجدید نہیں کی گئی۔مالی پہلو: اتھارٹی کا سالانہ بجٹ 40 کروڑ روپے تھا، جو پانچ سالوں میں مجموعی طور پر 2 ارب روپے بنتا ہے۔ تاہم، ذرائع کے مطابق اس بھاری بجٹ کے باوجود "آؤٹ پٹ صفر" رہا، یعنی کوئی قابل ذکر منصوبہ مکمل نہ ہوسکا۔
سیاسی پس منظر: نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی تحریک انصاف کی حکومت کی ایک بڑی ترجیحی پالیسی کا حصہ تھی، جس کا اعلان وزیراعظم عمران خان نے کیا تھا۔ اس کا مقصد کم آمدنی والے افراد کو آسان اقساط پر گھر فراہم کرنا تھا۔
وجوہات برائے تحلیل:
منصوبوں میں سست روی یا مکمل جمود
مطلوبہ اہداف کا حاصل نہ ہونا
مالی وسائل کا مؤثر استعمال نہ ہونا
شفافیت اور نگرانی کے فقدان کی شکایات
آئندہ لائحہ عمل:
حکومت کی جانب سے یہ عندیہ دیا گیا ہے کہ مستقبل میں ہاؤسنگ سے متعلق کوئی نئی اسکیم یا اتھارٹی شروع کرنے سے پہلے مکمل شفافیت، کارکردگی کے اہداف، اور مانیٹرنگ کا مؤثر نظام نافذ کیا جائے گا۔