دونوں جیلوں میں49قیدیوں کی طبعی موت ہوئی جبکہ ایک قیدی نے خود کشی کی،عدالت میں بیان
لاہور ہائیکورٹ نے جیلوں میں ہلاک قیدیوں کی پوسٹمارٹم رپورٹس طلب کرلی ،سماعت 3فروری تک ملتوی
لاہور(کورٹ رپورٹر )لاہور ہائی کورٹ نے جیلوں میں ہلاک ہونے والے قیدیوں کی پوسٹمارٹم رپورٹس طلب کرلیں۔لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے جیلوں میں قیدیوں پر تشدد روکنے اور سہولیات کی فراہمی سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔ عدالت نے جیلوں میں ہلاک ہونے والے قیدیوں کی پوسٹ مارٹم رپورٹس اور ان سے متعلق تمام دستاویزات طلب کرلیں۔چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ لاہور میں خواتین کی الگ جیلوں کے علاوہ 3 جیلیں تعمیر کے آخری مراحل میں ہیں۔ بہت سی چیزیں ہونے جا رہی ہیں کل ہی اس حوالے سے اجلاس کیا ہے۔آئی جی جیل خانہ جات نے عدالت کو بتایا کہ 2024میں لاہور کی دونوں جیلوں میں مجموعی طور پر68قیدی ہلاک ہوئے۔ 49قیدیوں کی طبعی موت ہوئی جبکہ ایک قیدی نے خود کشی کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ 2ہزار قیدیوں کی گنجائش والی ضلعی جیل میں 6ہزاور 6سو 75قیدی رکھے گئے ہیں۔ 2ہزار 360گنجائش والی سینٹرل جیل میں 3ہزار 810قیدی ہیں۔ پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعات رپورٹ ہورہے ہیں۔ قیدیوں کو جیلوں میں بھیڑ بکریوں کی طرح رکھا جاتا ہے اور انہیں ناکافی سہولیات کا سامنا ہے۔ قیدیوں کو تحفظ اور سہولیات فراہم کرنا ملکی اور بین الاقوامی قوانین کا تقاضا ہے۔ عدالت جیل حکام کو قیدیوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنے کا حکم دے۔لاہور ہائی کورٹ نے کیس کی عدالت نے سماعت 3فروری تک ملتوی کردی۔