جیکب آباد کے شہری نے ہاتھ سے کپڑے پر قرآنِ کریم لکھ کر سب کو دنگ کر دیا

جیکب آباد کے شہری نے ہاتھ سے کپڑے پر قرآنِ کریم لکھ کر سب کو دنگ کر دیا

جیکب آباد میں قرآنِ کریم سے محبت اور عقیدت کی ایک منفرد اور حیرت انگیز مثال سامنے آئی ہے۔

اوستہ بھلینہ آباد کے رہائشی نیاز حسین سکندری نے مشین یا پرنٹنگ کے بجائے اپنے ہاتھ سے قرآنِ پاک کے مکمل 30 پارے کپڑے پر تحریر کیے ہیں۔  نیاز حسین سکندری نے بتایا کہ انہوں نے فروری 2025 میں اس عظیم کام کا آغاز ایک نیت، جذبے اور خواب کے ساتھ کیا۔ کئی ماہ کی مسلسل محنت، صبر اور لگن کے بعد جولائی 2025 میں انہوں نے قرآنِ کریم کا یہ منفرد نسخہ مکمل کیا۔  اس نسخے کو پانچ پانچ پاروں پر مشتمل جلدوں میں ترتیب دیا گیا ہے، جبکہ مکمل تحریر کے لیے کپڑے کے 15 تھان استعمال کیے گئے ہیں۔ اس کا وزن 7 من سے زائد بتایا جاتا ہے۔  قرآنِ کریم کے اس منفرد نسخے میں خوبصورت خطاطی، سورتوں کے دلکش آغاز اور الفاظ کی نفاست نے دیکھنے والوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ نیاز حسین سکندری کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد ایک ایسا قرآنِ کریم کا نسخہ تخلیق کرنا تھا جو اپنی مثال آپ ہو، اور انہوں نے اس مقصد کو کامیابی سے حاصل کیا۔  
اس تحریری قرآنِ کریم کی جلد بندی اور دیگر مراحل کا کام ان کے دوست غلام فاروق قریشی نے انجام دیا۔ یہ منفرد نسخہ اس وقت مسجدِ کریم میں محفوظ ہے، جہاں سے دور دراز سے لوگ آ کر دیکھ رہے ہیں۔  یہ کاوش صرف خطاطی کا شاہکار نہیں بلکہ قرآنِ کریم سے محبت، صبر، محنت اور عقیدت کی ایک روشن مثال ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک یادگار بن چکی ہے۔