امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک اہم بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ اور وینزویلا کے درمیان تیل سے متعلق ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔
اس معاہدے کے تحت امریکہ نے وینزویلا کے تیل کے بڑے ذخائر پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وینزویلا کے پاس تقریباً 65 ارب بیرل سے زائد تیل کے ذخائر موجود ہیں، جن پر امریکہ کا کنٹرول ہو گیا ہے۔ اس معاہدہ کے نتیجے میں امریکی تیل کے ذخائر دگنے سے بھی زیادہ بڑھ جائیں گے، جس کا مقصد ملک میں توانائی کے ذخائر میں اضافہ کرنا اور تیل کی درآمدات کو مستحکم بنانا ہے۔مزید برآں، اس معاہدہ کے اثرات امریکہ میں تیل کی قیمتوں پر بھی مرتب ہوں گے، اور توقع ہے کہ اس سے امریکہ میں تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوگی۔ یہ اقدام امریکہ کی توانائی خودمختاری کو مضبوط بنانے اور عالمی تیل مارکیٹ میں اس کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لئے ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔اس خبر سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اپنی توانائی کی پالیسیوں کو مزید مستحکم اور خود کفیل بنانے کے لئے سرگرم عمل ہے، اور وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔